رَدْ تَنَاسُخْ — Page 35
وہ نہیں پر ینگے۔غور طلب یہ امر ہے کہ کس طرف نہ پہریں گے۔اقول - احتمال تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہ پھر ینگے۔اور جزا استرا کے واسطے زندہ نہ ہونگے۔سو یہ معنی تو صحیح نہیں۔کیونکہ اس آیت کے ماقبل گذر چکا ہے۔کل الينا راجعون۔(سوره انبیاء یوں ہے اور اس کے معنے ہیں۔تمام لوگ ہماری طرف رجوع اران کلر) اور اس کے معنے ہیں علام دوم معنے ہیں۔دنیا میں پھر کر نہ آدینگے۔سوم معنے ہیں وہ شریر جنکو اللہ تعالیٰ نے کھپایا اور ہلاک کیا۔اپنی شرارت سے پہر نے استاین والے نہیں۔یہ دونوں معنے صحیح ہیں۔تیسر ا لفظ حتی کا ہی جو جیتے اذا فتحت یا جوج وماجوج میں ہو۔یہ سے حرف ابتدا ہو۔فقط جیسے کہ نہ مختصر کی اور ابن عطیہ نے کہا ہے۔اس صورت میں جتنے کے معنے یہانتک کرنے میے نہ ہونگے۔بلکہ یہ کلام علیرہ ہوگا۔اور جملہ شرطیہ اذا فتحت کا جواب فاذا هو شاخصہ ہوگا اذا مو شاخصہ کا اذا ا جانا کے معنے دیتا ہے۔جبکو عربی میں مفاجاة کہتے ہیں۔اور یہ اذا فا کی تاکید ہوا کرتا ہیں۔باستے کا حرف ائی کے معنے رکہتا ہو۔بین مطلب یہ ہو گا کہ جن جن بستیوں کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک کیا ہے۔یا جوج اور ماجوج کے قتحمند ہونے یا شکست پانے اور قیامت کے نزدیک آجانے تک جتنے شریہ ہلاک ہو رہے ہیں۔وہ نہ تو دنیا میں واپس آدینگے اور نہ وہ اپنی شرارت سے باز آدینگے۔ہاں جب دنیا کا کارخانہ ہی ختم ہو گیا۔اور قیامت آگئی۔اور جنہ ا سزا کا وقت آپہنچا تو سب آجائینگے۔جیسے کل الینا راجعون سے ثابت ہو چکا تھا۔جو پہلے گزر چکا۔معلوم ہوتا ہو۔مصنف تنقیہ کو لفظ حتے سے خیال پیدا ہو ما قبل ما بعد کے خلاف ہو ا کرتا ہے۔مگر اس آیت پر غور کرنا چاہیے۔१०८