رَدْ تَنَاسُخْ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 29 of 40

رَدْ تَنَاسُخْ — Page 29

۲۹ اسکی سزا پاتے ہیں۔بھلا چھوٹی سی عقل کے بچے ایسا کیوں نہ کرتے ہوں۔بلکہ ہم کہ سکتے ہیں۔لڑکوں کو کچھہ بڑی تکلیف نہیں ہوتی اور اس کے والدین و مرتی اپنے اسی شبنم کے استعمال کی سزا بھگت لیتے ہیں۔اور جائز ہے۔کہ ایسے لڑکوں کو آیندہ ابدال آباد نہ زندگی میں ترقی کا سامان مجاوے۔تیتیوال جواب نیکی کا اثر اگرچہ عمدہ ہوتا ہے۔مگر نیک اپنی نیکی پر کبھی تجبر کرتا۔نیکی کو ریاء اور لوگوں کو د کہلائے کیو اسطے بجا لاتا ہے۔کمزور لوگوں کو حقارت کی نگاہ سحر دیکھتا ہے۔اور بدی کا اثر اگرچہ بڑا ہونا چاہیئے۔مگر بد کا اپنی بدکاری پر جب نظر کرتا ہے۔تو بارگاہ الہی میں عجز و انکسار - اضطراب شرمندگی ظاہر کرتا اور دُعائیں مانگتا ہے۔اسلئے نیک اپنی بیگی کو تباہ کر دیتا ہے۔اور بد کار بدی کے بعد مقرب بارگاہ الہی ہو انگاہ کے لوگ انیک تا ہے تیا جسکو ہم ! جاتا ہے۔باد کار کو سہی۔اور اپنے غلط تو ہمات سے اگر تمہ دیں کہ یہ تکلیف نیک پر اسکے پور پہلے جسم کا پہل ہیں اور یہ آسائشیں بدکار کو اسکے پور بلے جسم کا پھل ہیں۔تو ہمارا یہ تو ہم غلط ہو گا۔کیونکہ ممکن ہے۔ہماری تشخیص نے غلطی کھائی ہو۔چونتیسواں جواب۔نیکیوں کے بہت اقسام ہیں۔پھر جیسے نیکیوں کے انواع و اقسام ہیں۔ایسے ہی نیکیونجے ثرات اور نتائج کے بھی اقسام ہیں۔اکثر لوگوں کی یہ حالت ہے۔ایک قسم یا سو ہزار قسم کی نیکی کرتے ہیں۔اور جس جس قسم کی نیچی کرتے ہیں۔اس کے انواع واقسام کی برکات اور