رَدْ تَنَاسُخْ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 28 of 40

رَدْ تَنَاسُخْ — Page 28

سناء جزا اور غمزہ کا اُٹھا نا ضرور ہے۔بہت نہ ہو تھوڑا سہی۔مگر ایسی صورتیں اگر قدرے قلیل دکھ دائک اور رنج رساں ہوں تو ان کی تلافی اس اجر عظیم سے ہو جاتی ہے۔جسے شہادت کا مرتبہ کہتے ہیں۔دوسرے وہ اعمال ہیں۔جنہیں قانون کی خلاف ورزی میں مرتکب جرایم کا عاقل بالغ، جان بوجھ کر جرم کا مرتکب ہونا ضروری ہے۔ایسے قوانین کو قانون شریعت - قانون حکماء قانون حکام کہتے ہیں۔پس لڑکے قانون قدرت کی خلاف ورزی میں گرفتار ہیں۔انہوں نے خود کی ہے۔یا ان کے والدین اور مربیوں نے یہ۔دو بیر۔لڑکے بھی ہم کہ سکتے ہیں۔کہ جان بوجھ کر کسی برائی کے مرتکب ہوا کرتے ہیں۔اور اسی کی سزاء میں گرفتار ہوتے ہیں۔یا تو ا سلئے کہ برائی کی فرینکوب ان کی روح ہے۔اور انکی روح چین ہوشیار اور ان کی کمزوری کے وقت ایسی گن - کرم۔اور سمجھاؤ کے ساتھ ہے۔جیسے جوانی کے وقت۔اور یا اسلئے کہ جقدر کے وہ لڑکے ہیں۔اور جبقدر ان کے جسم اور عناصر کی استعداد ہے۔اسقدر کی سمجہ والی انکی روح بھی ہو۔پھر جیسے چھوٹی سی چیونٹی بھی روح اور سمجھہ کا ایک مقدار رکھتی ہے۔اور سمجھہ کے خلاف مرتکب بھی ہوتی ہے۔اسی طرح وہ لڑکے بھی جن کو بیمار دیکھتے ہو۔اپنی وسعت سمجھ کے موافق کسی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہوں۔جب ہم عقل اور حکماء اور بڑے بڑے سمجھ والوں کو دیکھتے ہیں۔کہ وہ لوگ بھی عقل اور سمجہ کے خلاف کرتے ہیں اور