رَدْ تَنَاسُخْ

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 20 of 40

رَدْ تَنَاسُخْ — Page 20

سابقوا الى مغفرة مرربكم وجنة عرضها لعرض السماء والارض اعدت الذين امنوا بالله ورسله ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذوا الفضل العظيم سیپارہ نمبر ۲۷ سوره حدید رکوع ۳ - نجات کا مسئلہ فصل الخطاب نام رو نصاری میں مفصل ہے۔بیسواں جواب۔آریہ صاحبان! باری تعالے کو فضل وکرم سے کس نے روکا۔اسپر کون غالب۔اس پر کون حکمران۔اس نے کب عہد نہیں بلکہ وعید کر دیا ہے۔کہ کسی که کسی مریض فضل نہ کرے گا ہ ہم تو کہتے ہیں۔اگر ایسا سخت ڈرا دوا دیا بھی ہے۔تو بھی وہ نجاستا دے سکتا ہے۔کیونکہ وہ ہر طرح کے عیوب سے پاک جانتا ہے۔کہ وعدوں کے خلاف کا نام اگر کذب ہو۔تو وی کا غلاف کذبہ نہیں بلکہ کرم اور فضل ہے۔لانتشال ما يفعل وه يسالون - ای سوال جو اب اس تاریخ کا مسئلہ جیسے تو حید کے جواب 6۔خلاف ہے۔اور شرکیہ کا باعث۔ویسے ہی اخلاق او مارل فلاسفی کا منظر ناک دشمن ہے۔توی کے خلاف تو اسلئے ہے۔تناسخ ماننے والوں پر 22۔دوڑو اپنے رب کی معافی اور اُس جنت کیطرف جسکا پھیلاؤ ہے۔آسمان اور زمین کے پر ملاؤ کے برابر رکھی گئی ہے۔انکے لئے جو یقین لائے۔اللہ پر اور اسکو ہیولوں پر یہ نہیں ہو اللہ کا دیتا ہو جسے چاہتا ہے۔اور اللہ کا فضل بڑا ہے۔ہے۔تو کچھ الاد تبولا کہ کیا پر کسیکو نکتہ چینی اور سوال کی جگہ نہیں۔اور جو کھے لوگ کرتے ہیں۔امیر تو سکنہ چاہتی اور سوال ہو سکتا ہے ؟