ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 87
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اے اللہ! میں اس کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان والی جگہ کو حرم بناتا ہوں جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرم بنایا تھا۔اے اللہ ! ہمیں ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنے وطن کی خیر و برکت کے لیے دعا محبت کی واضح دلیل ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب لوگ پہلا پھل دیکھتے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوتے۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے قبول کرنے کے بعد دعا کرتے: اے اللہ ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما۔ہمارے (وطن) مدینہ میں برکت عطا فرما۔ہمارے صاع میں اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما اور مزید عرض کرتے: اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ وَنَبِيُّكَ، وَإِنِّي عَبْدُكَ وَنَبِيَّكَ وَإِنَّهُ دَعَاكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوكَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ لِمَكْةُ وَمِثْلِهِ مَعَهُ (صحیح مسلم، 2: 1000، رقم: 1373) اے اللہ ! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے، تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں۔انہوں نے مکہ مکرمہ کے لیے دعا کی تھی۔میں ان کی دعاؤں کے برابر اور اس سے ایک مثل زائد مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں (یعنی مدینہ میں مکہ سے دو گنا بر کتیں نازل فرما۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چھوٹے بچے کو بلا کر وہ پھل دے دیتے۔وطن سے محبت کا ایک اور انداز یہ بھی ہے کہ حضور نبی اکرم نے فرمایا کہ وطن کی مٹی بزرگوں کے لعاب اور رب تعالیٰ کے حکم سے بیماروں کو شفا دیتی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلَّم كَانَ يَقُولُ لِلْمَرِيضِ بِسْمِ اللهِ تُرْبَهُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبَّنَا (صحیح البخاری، 5: 2168، رقم: 5413، صحیح مسلم، 4: 1724، رقم: 2194) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مریض سے فرمایا کرتے تھے: اللہ کے نام سے شروع، ہماری زمین (وطن) کی مٹی ہم میں سے بعض کے لعاب سے ہمارے بیمار کو ، ہمارے رب کے حکم سے شفا دیتی ہے۔87