ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 86
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وآله وسلم كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ ، فَنَظَرَ إِلى جُدْرَاتِ الْمَدِينَةِ ، أَوْضَعَ رَاحِلَتَهِ، وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ ، حَرَّكَهَا مِنْ حُيَّهَا (صحیح البخاری 2: 666، رقم: 1787، مسند أحمد بن حنبل 3: 159، رقم: 12644ء سنن الترمذی 5: 499، رقم : 3441) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے ہوئے مدینہ منورہ کی دیواروں کو دیکھتے تو اپنی اونٹنی کی رفتار تیز کر دیتے اور اگر دوسرے جانور پر سوار ہوتے تو مدینہ منورہ کی محبت میں اُسے ایڈی مار کر تیز بھگاتے تھے۔حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: وَفِي الْحَدِيثِ دَلَالَةٌ عَلَى فَضْلِ الْمَدِينَةِ ، وَعَلَى مَشْرُوعِيَةِ حُبِّ الْوَطَنِ وَالْحَنِينِ إِلَيْهِ (فتح الباری 3: 621) یہ حدیث مبارک مدینہ منورہ کی فضیلت، وطن سے محبت کی فرضیت و جواز اور اس کے لیے مشتاق ہونے پر دلالت کرتی ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ایک روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کرتا رہوں۔جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُحد پہاڑ نظر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔اس کے بعد اپنے دستِ مبارک سے مدینہ منورہ کی جانب اشارہ کر کے فرمایا: اللَّهُمَّ! إِنِّي أُحَرِّمُ مَابَيْنَ لَابَتَيْهَا كَتَحْرِيمِ إِبْرَاهِيمَ مَكَّةَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدْنَا (صحیح البخاری، 3: 1058، رقم: 2732، صحیح مسلم، 2: 993، رقم: 1365) 86