ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 88 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 88

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ کوئی شخص مکہ مکرمہ سے آیا اور بارگاہِ رسالت تاب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوا۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے پوچھا کہ مکہ کے حالات کیسے ہیں؟ جواب میں اُس شخص نے مکہ مکرمہ کے فضائل بیان کرنا شروع کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے فلاں! ہمارا اشتیاق نہ بڑھا۔لَا تُشَوْقْنَا يَا فُلَانُ جب کہ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُسے فرمایا: دَعِ الْقُلُوبَ تَقِر (شرح الزرقانی علی الموطاء 4: 288، السيرة الحلبية 2: 283) دلوں کو قرار پکڑنے دو مکہ کی یاد دلا کر مضطرب نہ کرو۔آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وطن سے محبت کا ثبوت اہل وطن کی خیر خواہی سے بحسن و خوبی ملتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام بھی قدرتی طور پر اسی رنگ میں رنگین تھے آپ کے اقوال اور افعال بعینہ اپنے محبوب رسول خدا کے اسوہ حسنہ کا عکس تھے۔اس بستی میں وہ الہی نور برسا که که قادیان زیر غار نہ رہی ایسا رجوع جہان ہوا کہ مرجع خواص بن گئی۔قادیان سے محبت اس لئے بھی تھی کہ اس خطہ زمین کو اللہ تعالی نے آنحضرت صلی علیہ علم کی بشارتوں کے ساتھ مسیح کی آمد ثانی کے لئے چنا تھا۔ایک حدیث مبار کہ ہے حضرت رسول کریم میای لیم نے فرمایا ”تین مساجد کے علاوہ کسی طرف رخت سفر نہ باندھیں اس مسجد یعنی مسجد نبوی مدینہ منورہ، مسجد حرام اور مسجد اقصی“ الله ( صحیح مسلم كتاب الحج باب لا تشد الرحال الا الى ثلاثه مساجد ) مسجد اقصیٰ کا ذکر قرآن پاک میں بھی ہے۔سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بَرَكْنَا حَوْلَهُ (بنی اسرائیل: 2) پاک ہے وہ جو رات کے وقت اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گیا جس کے ماحول 88