ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 57
وقت عموماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی باہر مہمانوں میں بیٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے۔آپ ایک روٹی ہاتھ میں لیتے اور اس کے دو ٹکڑے کرتے ایک ٹکڑا دستر خوان پر رکھ دیتے دوسرے کے پھر دو ٹکڑے کرتے پھر ایک ٹکڑا دستر خوان پر رکھ دیتے جو ہاتھ میں رہ جاتا اس میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا کاٹتے جو لمبائی چوڑائی میں ایک انچ سے کم ہوتا اور اسے سالن کے کٹورے میں ڈالتے اسی طرح بہت تھوڑا سا سالن اس ٹکڑے کے ایک کنارے پر لگتا پھر اسے منہ میں ڈالتے اور دیر تک اسی کو چباتے اور مہمانوں کے ساتھ باتیں کرتے رہتے اور کبھی کبھی اپنے آگے سے کوئی کھانے کی چیز اٹھا کر کسی مہمان کو دیتے یا اچار یا مربہ یا کوئی اور خاص چیز دستر خوان پر ہوتی اس میں سے کچھ ایک روٹی پر رکھ کر کسی مہمان کو دیتے میری عادت تھی کہ میں یہ سبب محبت دستر خوان پر حضرت کے قریب بیٹھنے کی کوشش کرتا میں دیکھتا تھا کہ حضور کے کھانے کی مقدار بہت کم ہوتی اور چند نوالوں سے زیادہ نہ ہوتی۔“ ذکر حبیب حضرت مفتی محمد صادق صفحہ 9 - 10) اللہ والوں کا یہی دستور ہے وہ کھانے کے لئے زندہ نہیں رہتے زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں۔اس طرح ان کا کھانا بھی عبادت میں شامل ہوتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنے آقا و مطاع کی اس ادا کو بھی زندہ کرکے دکھادیا۔”ایک دفعہ کا ذکر ہے گورداسپور میں مقدمہ کے ایام میں جو کرم دین سے تھا ایک دن ایسا ہوا کہ مہمان کثرت سے آگئے انگر خانہ بھی نہیں تھا تمام ملازمین مہمانوں کو کھانا کھلاتے حضرت صاحب کو کھانا کھلانا بھول گئے بارہ بجے کے قریب جب دن ڈھلنے کو آیا تو حامد علی نے آکر حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور کھانا تو ختم ہو گیا اور مجھے اب یاد آیا کہ حضور نے کھانا تناول نہیں فرمایا اگر حضور حکم دیں تو کھانا دوبارہ تیار کیا جائے۔فرمایا کوئی ضرورت نہیں ہے ڈبل روٹی اور دودھ لے آؤ میں وہی بھگو کر کھالوں گا فوراً حامد علی دودھ اور ڈبل روٹی کے لئے گیا ڈبل روٹی تو مل گئی مگر دودھ نہ ملا۔حامد علی نے عرض کیا حضور ڈبل روٹی تو مل گئی مگر دودھ کہیں نہیں ملتا۔فرمایا پانی میں بھگو کر کھائیں گے کوئی حرج نہیں ہے اور حضور نے اسی طرح کچھ ڈبل روٹی پانی میں بھگو کر کھائی اور دن بسر کر دیا۔(سیرتِ احمد مرتبه قدرت اللہ سنوری صفحہ 69) اسی مقدمے کے دوران ایک دفعہ آپ کا کھانا لاہور سے آنے والے مہمانوں کو پیش کر دیا گیا آپ نے دریافت کیا گیا کہ دوسرا کھانا تیار کروایا جائے تو آپ نے فرمایا: 57