ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 56
اگر کبھی دیر سے گھر واپس تشریف لاتے تو کسی کو زحمت دیتے نہ جگاتے بلکہ خود ہی کھانا یا دودھ تناول فرمالیتے۔“ (مسلم کتاب الاشربه ) آنحضرت نے ایک دفعہ فرمایا دل کرتا ہے ایک دن بھو کا رہوں ایک دن سیر ہو کر کھالوں جس دن بھو کا رہوں اپنے رب سے تضرع اور دعا کروں اور سیر ہو کر اللہ کا شکر بجا لاؤں۔“ ترمذی کتاب الزهد باب ما جاء في الكفاف) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خوراک کے بارے میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل تحریر فرماتے ہیں : قرآن شریف میں کفار کے لئے وارد ہے يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ کافر سات انتڑی میں کھاتا اور مومن ایک میں۔مراد ان باتوں سے یہ ہے کہ مومن طیب چیز کھانے والا اور دنیا دار یا کافر کی نسبت بہت کم خور ہوتا ہے جب مومن کا یہ حال ہو تو پھر انبیا ء اور مر سلین علیھم السلام کا تو کیا کہنا۔آنحضرت کے دستر خوان پر بھی اکثر ایک سالن ہوتا بلکہ سنتو یا صرف کھجور یا دودھ کا ایک پیالہ ہی ایک غذا ہوا کرتی تھی۔اسی سنت پر ہمارے حضرت اقدس علیہ السلام بھی بہت کم خور تھے اور بمقابلہ اس کام اور محنت کے جس میں حضور دن رات لگے رہتے تھے اکثر حضور کی غذا دیکھی جاتی تو بعض اوقات حیرانی سے بے اختیار لوگ یہ کہہ اٹھتے تھے کہ اتنی خوراک پر یہ شخص زندہ کیوں کر رہ سکتا ہے خواہ کھانا کیسا ہی عمدہ اور لذیذ ہو اور کیسی ہی بھوک ہو آپ کبھی حلق تک ٹھونس کر نہیں کھاتے تھے۔“ (مضامین حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صفحہ 435) آپ کا کھانا صرف اپنے کام کے لئے قوت حاصل کرنے کے لئے ہوا کرتا تھا نہ کہ لذت نفس کے لئے۔بارہا آپ نے فرمایا کہ ہمیں تو کھانا کھا کر یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کیا پکا تھا اور ہم نے کیا کھایا۔۔۔(مضامین حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صفحہ 735) حضرت مفتی محمد صادق نے ابتدائی زمانے کی بڑی عمدہ تصویر کھینچی ہے: ابتدا میں جب مہمان کم ہوتے تھے اور گول کمرے میں یا مسجد میں مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا اس 56