ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 55
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام حضرت مقداد آنحضور کی کھانے سے بے نیازی کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں: ”حضور کے پاس چند بکریاں تھیں جن کے دودھ پر رسول اللہ کے مہمان صحابہ کا گزارا ہو تا تھا۔دستور یہ تھا کہ ہم یعنی مقداد اور ان کے دو اور مہمان ساتھی بکریوں کا دودھ خود دوہتے اور اپنا حصہ پی کر سوجاتے۔باقی دودھ ایک پیالے میں ڈھک کر رسول اللہ کے لئے بچا رکھتے ایک دن دینی کاموں میں تاخیر کی وجہ آنحضور کی گھر واپسی میں تاخیر ہو گئی۔ادھر میری بھوک کی شدت اپنے حصے کے دودھ سے دودھ سے کم نہ ہوئی تو دل میں خیال آیا کیوں نہ آنحضور کے حصے کا دودھ پی لیا جائے۔یہ سوچ کر کہ حضور کو تو انصار وغیرہ نے دودھ پلا دیا ہو گا وہ سیر ہو کر آئیں گے اٹھا اور دودھ پی کر خالی پیالہ اسی جگہ رکھ دیا۔آنحضور کا دستور یہ تھا کہ گھر واپس تشریف لاتے اگر لوگ سوئے ہوئے ہوتے تو بڑی خاموشی سے دوسروں کو جگائے بغیر آہستہ آواز میں سلام کہتے۔آپ تشریف لائے اور حسب معمول سونے سے پہلے اس طرف گئے جہاں دودھ کا پیالہ پڑا ہوتا تھا مگر پیالہ خالی تھا ادھر میں عرق ندامت سے پانی پانی ہو رہا تھا کہ مجھ سے کیا حرکت سر زد ہو گئی۔ادھر نبی کریم نے بلند آواز سے یہ دعا کی کہ "یا اللہ اس وقت بھوک کی حالت میں جو بھی مجھے کھلائے اسے کھلا اور جو بھی مجھے پلائے تو اسے پلا“ کہتے ہیں تب مجھے کچھ ڈھارس بندھی میں فوراً اٹھا اور ان بکریوں کی طرف گیا جن کا دودھ پہلے دوہا جا چکا تھا۔مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جب بکری کے تھن کو میرا ہاتھ پڑا تو اس کو دودھ سے بھرا ہوا پایا۔میں نے دودھ سے اپنا برتن بھرا اور آنحضرت کی خدمت میں لے کر آیا حضور نے فرمایا پہلے تم پی لو۔میں نے عرض کیا حضور پہلے آپ پی لیں پھر میں آپ کو ساری بات عرض کروں گا۔حضور نے دودھ پی لیا پھر بھی باقی بچ گیا۔حضور نے مجھے فرمایا اب تم بھی پی لو۔میں نے پیا جب خوب سیر ہو گیا تو بے اختیار میری ہنسی چھوٹ گئی اور میں لوٹ پوٹ ہونے لگا۔حضور نے فرمایا مقداد کیا بات ہے؟ تب میں نے سارا قصہ سنایا کہ یا رسول اللہ میں تو اس خیال سے آپ کے دودھ کا حصہ پی گیا تھا کہ آپ باہر سے دودھ پی کر آئیں گے مگر جب آپ نے یہ دعا کی تو میں اٹھا اور پھر یہ عجیب نشان ظاہر ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ایک بکری کے تھنوں میں دوبارہ دودھ اتار دیا۔میں ہنس اس لئے رہا ہوں کہ میں نے حضور کے دودھ کا حصہ بھی پیا اور اپنا بھی اور دودھ دوہنے کے بعد پھر خدا نے مجھے پلایا اس طرح میرے حق میں حضور کی یہ دعا بھی پوری ہو گئی۔حضور نے فرمایا کہ یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک برکت تھی اور یہ تمہارے ساتھی جو سو رہے ہیں ان کو اس میں سے کیوں حصہ نہ دیا۔“ (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 4) 55