ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 43
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 8 ناصر دین کے لئے دعا کی قبولیت رسالت کا ابتدائی زمانہ تھا حضرت رسولِ اکرم علی ای ایم نے خدائے واحد کا پیغام دینا شروع کیا تو قریش مکہ کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و تشدد ہونے لگا جس میں وقت کے ساتھ شدت آنے لگی۔دارارقم میں چھپ کر رہنے سے تو اسلام نہیں پھیل سکتا تھا۔نبی کریم صلی ال نیلم نے اسلام کی کھل کے تبلیغ کے لئے اور مسلمانوں کی عزت و طاقت میں اضافے کے لئے غلاف کعبہ کو تھام کر اللہ تعالیٰ سے ان الفاظ میں دعا کی:۔اللَّهُمَّ أَعِنَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَثٍ هَذَيْنِ الرَّجُدَيْنِ إِلَيْكَ بِأَبِي جَهْلِ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔اے اللہ! تو ان دو اشخاص ابو جہل اور عمر بن خطاب میں سے اپنے زیادہ محبوب شخص کے ذریعہ اسلام کو عزت عطا کر۔ابن عمر کہتے ہیں کہ ان دونوں میں سے اللہ کو زیادہ محبوب حضرت عمر تھے۔(سنن الترمذی ابواب المناقب باب فی مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب حدیث 3681) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللَّهُمَّ ايْدِ الدِّينَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔اے اللہ ! عمر بن خطاب کے ذریعہ سے دین کی تائید فرما۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللَّهُمَّ أَعِنَّ الْإِسْلَامَ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَاصَّةً کہ اے اللہ ! خاص طور پر عمر بن خطاب کے ذریعہ اسلام کو عزت عطا کر۔(مستدرك للحاكم على الصحيحين جلد 3 صفحہ 89 کتاب معرفۃ الصحابه باب من مناقب امیر المومنین عمر بن الخطاب حدیث نمبر 4483 - 4485 دار الكتب العلمية بيروت 2002ء) ایک روایت ہے کہ حضرت عمر کے اسلام لانے سے ایک دن پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی تھی۔اللَّهُمَّ أَيِّدِ الْإِسْلَامَ بِاحَ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ عَمْرِو بْنِ هِشَامٍ اے اللہ ! ان دو لوگوں میں سے جو تجھے زیادہ محبوب ہے اس کے ذریعہ سے اسلام کی تائید فرما۔عمر بن خطاب یا عمر و بن ہشام۔جب حضرت عمر نے اسلام قبول کیا تو حضرت جبرئیل نازل ہوئے اور کہا اے محمد ؟ عمر کے اسلام لانے سے آسمان والے بھی خوش ہیں۔الطبقات الكبرى لابن سعد جلد 3 صفحہ 143 باب اسلام عمر مطبوعہ دار احياء التراث العربی بیروت لبنان 1996ء) 43