ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 44
۔ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اللہ تعالیٰ نے حضور صلی علیم کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازا اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبوت کے چھٹے سال حلقہ بگوش اسلام ہوئے یہی وجہ ہے کہ آپ کو مرادِ رسول صلی الی کم بھی کہا جاتا ہے۔آپ کے قبولِ اسلام سے مسلمان مردوں کی تعداد چالیس ہو گئی۔حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب سے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام لائے، یہ دین روز بروز ترقی کرتا چلا گیا“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر کا اپنی بہن کے گھر قرآن پاک سن کر کلمہ شہادت پڑھنے کا واقعہ لکھنے کے بعد تحریر فرمایا: رض ”حضرت عمر نے دریافت کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آج کل کہاں مقیم ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مخالفت کی وجہ سے گھر بدلتے رہتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ آج کل آپ دارِ ارقم میں تشریف رکھتے ہیں۔حضرت عمر فوراً اسی حالت میں جب کہ ننگی تلوار انہوں نے لٹکائی ہوئی تھی اس گھر کی طرف چل پڑے۔بہن کے دل میں شبہ پیدا ہوا کہ شاید وہ بری نیت سے نہ جا رہے ہوں۔انہوں نے آگے بڑھ کر کہا خدا کی قسم! میں تمہیں اس وقت تک نہیں جانے دوں گی جب تک تم مجھے اطمینان نہ دلا دو کہ تم کوئی شرارت نہیں کرو گے۔حضرت عمر نے کہا کہ میں پکا وعدہ کرتاہوں کہ میں کوئی فساد نہیں کرونگا۔حضرت عمر وہاں پہنچے۔“ یعنی اس جگہ جہاں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور دستک دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ اندر بیٹھے ہوئے تھے دینی درس ہو رہا تھا۔کسی صحابی نے پوچھا کون؟ حضرت عمر نے جواب دیا عمر ! صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! دروازہ نہیں کھولنا چاہئے۔ایسا نہ ہو کہ کوئی فساد کرے۔حضرت حمزہ نئے نئے ایمان لائے ہوئے تھے وہ سپاہیانہ طرز کے آدمی تھے۔انہوں نے کہا دروازہ کھول دو۔میں دیکھوں گا وہ کیا کرتا ہے۔چنانچہ ایک شخص نے دروازہ کھول دیا۔حضرت عمر آگے بڑھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔عمر ! تم کب تک میری مخالفت میں بڑھتے چلے جاؤ گے؟ حضرت عمر نے کہا یا رسول اللہ ! میں مخالفت کیلئے نہیں آیا میں تو آپ کا غلام بننے کیلئے آیا ہوں۔وہ عمر جو ایک گھنٹہ پہلے اسلام کے شدید دشمن تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارنے کیلئے گھر سے نکلے تھے ایک آن میں اعلیٰ درجہ کے مومن بن گئے۔حضرت عمر مکہ کے رئیسوں میں سے نہیں تھے لیکن بہادری کی وجہ سے نوجوانوں پر آپ کا اچھا اثر تھا۔جب آپ مسلمان ہوئے تو صحابہ نے جوش میں آکر نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے۔اس کے بعد نماز کا وقت آیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنی چاہی تو وہی عمر جو دو گھنٹے قبل گھر سے اس لئے نکلا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مارے۔اس نے دوبارہ تلوار نکال لی اور کہا۔یارسول اللہ ! خدا تعالیٰ کا رسول اور اس کے ماننے والے تو چھپ کر نمازیں 44