ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 412
آخری الفاظ روز وصال آنحضرت علی کم پر بار بار غشی طاری ہوتی تھی جب بھی ہوش آتی تو آپ کے لب مبارک ہلتے اور آپ صلی علی رام کچھ نہ کچھ کلام فرماتے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس وقت آپ کی ہم پر غرغرہ کی حالت تھی آپ صلی ا یہ کام اس وقت یہ فرما رہے تھے الصلوة و ما ملکت ایمانکم ( ابنِ ماجہ کتاب الوصایا ) نماز اور وہ جو تمہارے زیر نگیں ہیں (ان کا خیال رکھنا ہر گز نہ بھولنا) وقتِ وصال آپ صلی علم کے آخری الفاظ جو آپ صلیا ولی کی زبانِ مبارک سے ادا ہوئے ”فی الرفیق الاعلی بالجنہ“ یعنی میں جنت میں اپنے رفیق اعلی میں جذب ہونا چاہتا ہوں۔( بخاری کتاب المغازی باب في مرض النبی ) آپ صلی میری کام کا وصال یکم ربیع الاول 11 ہجری مطابق 26 مئی 632 عیسوی کو ہوا۔استفاده سيرة خاتم النبيين حصہ دوم از بادی علی چودھری صفحه 791) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے سفر آخرت کے حالات میں اپنے محبوب صلی الم سے ایمان افروز مماثلت ملاحظہ کیجئے۔وفات کے متعلق الہی خبریں اللہ تبارک تعالیٰ نے وقت آخر کی اطلاعیں دیں تا کہ عشاق ذہنی طور پر عارضی جسمانی جدائی کا صدمہ برداشت کرنے کے کسی حد تک قابل ہو جائیں۔9 مئی 1908ء کو الہام ہوا تھا۔الرحيل ثم الرحيل“۔(بدر 28 مئی 1908ء) پھر 17 مئی 1908ء کو الہام ہوا: مکن تکیه بر عمر ناپائیدار" اس کے بعد 20 مئی کو الہام ہوا الرحيل ثم الرحيل والموت“ قریب کوچ کا وقت آ گیا ہے ہاں کوچ کا وقت آگیا ہے اور موت قریب ہے۔روانگی سے قبل حضور نے وہ حجرہ بند کیا جس میں آپ آخری عمر میں تصنیف فرمایا کرتے تھے اور فرمایا: 412