ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 411 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 411

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ دیکھو میرے بعد توحید پر قائم رہنا اور میری قبر پر سجدہ نہ ہونے دینا۔( بخاری کتاب الصلوة باب الصلوة في البيعة 24) فجر کی نماز آخری نماز مؤذن نے فجر کی اذان کہی اور آپ کالی لی نام کو نماز کی اطلاع دی آپ کی ایم نے فرمایا: آخری بیماری میں رسول کریم صلی ال ی م ت محرقہ کے باعث شدید بخار میں مبتلا تھے مگر فکر تھی تو نماز کی۔گھبراہٹ کے عالم میں بار بار پوچھتے، کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ بتایا گیا کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں۔بخار ہلکا کرنے کی خاطر فرمایا کہ میرے اوپر پانی کے مشکیزے ڈالو۔تعمیل ارشاد ہوئی مگر پھر غشی طاری ہو گئی۔ہوش آیا تو پھر پوچھا کہ کیا نماز ہو گئی؟ جب پتہ چلا کہ صحابہ انتظار میں ہیں تو فرمایا ”مجھ پر پانی ڈالو “ جس کی تعمیل کی گئی۔غسل سے بخار کچھ کم ہوا تو تیسری مرتبہ نماز پر جانے لگے مگر نقاہت کے باعث نیم غشی کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ مسجد تشریف نہ لے جاسکے۔( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبي ووفاته 4088 ) آخری نماز حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی امامت ادا فرمائی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز کی تکبیر کہی۔آپ مالی ایم نے نقاہت سے قدرے افاقہ محسوس کیا تو مسجد والے دروازے کے پاس تشریف لے آئے اور اس کا پردہ سر کا کر جھانکا۔صحابہ نماز پڑھ رہے تھے۔آپ صلی الم نے فرمایا قرة عينی فی الصلوة پھر آپ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اور ایک خادم حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے سہارے مسجد میں تشریف لے آئے۔جب آپ کی ی علمی آہستہ آہستہ صفوں تک پہنچے تو نماز کی دوسری رکعت شروع ہو چکی تھی۔صحابہ نے آپ صلی ظلم کو دیکھا تو خوش ہو گئے۔آپ صل اللہ ہم آگے بڑھ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹنا چاہا مگر آپ کی تعلیم نے ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کو مصلی پر ہی روک دیا اور خود ان کے دائیں جانب کھڑے ہو گئے۔پھر آنحضرت صلی ال عالم جلد ہی بیٹھ گئے اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دوسری رکعت کی تلاوت مکمل کی اور باقی نماز پوری کر کے سلام پھیرا اور نماز ختم کی۔آنحضرت صلا ل ہم اپنی رہی ہوئی پہلی رکعت پڑھنے کے بعد نماز ختم کی اور سلام پھیرا۔اس کے بعد آپ کی تعلیم اپنے حجرے میں تشریف لے گئے۔( بخاری کتاب الاذان ) 411