ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 413
پیغام ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ”اب ہم اس کو نہیں کھولیں گے“ صلح حضرت اقدس علیہ السلام کی آخری تصنیف ہے جس میں آپ نے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔یہ مضمون 25 مئی کی شام کو مکمل کیا۔فرمایا ”ہماری آخری کتاب ہے اب جو کچھ ہم نے کرنا تھا کر 25 مئی 1908ء کی رات حضور کی تکلیف اور کمزوری بڑھتی دیکھ کر حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے منہ سے نکلا: یا اللہ یہ کیا ہونے والا ہے“۔اس پر حضور نے فرمایا وہی جو میں آپ سے کہا کرتا تھا۔یعنی واقعہ وصال کی طرف اشارہ تھا۔(سیرت المہدی حصہ دوم صفحہ 406) حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے سخت گھبراہٹ کا اظہار کیا اور کہا اب قادیان واپس چلیں۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو ہم اسی وقت جائیں گے جب خدا لے جائے گا“۔آخری خرچ 25 مئی 1908ء کو پیغام صلح مکمل کر کے نماز عصر کے بعد سیر کے لئے باہر تشریف لائے ایک کرائے کی گھوڑا گاڑی حاضر تھی جو فی گھنٹہ مقررہ شرح کرایہ پر منگوائی گئی تھی۔آپ نے اپنے ایک نہایت مخلص رفیق شیخ (بھائی) عبد الرحمن قادیانی سے فرمایا اس گاڑی والے سے کہہ دیں اور اچھی طرح سے سمجھا دیں کہ اس وقت ہمارے پاس صرف ایک گھنٹہ کے کرایہ کے پیسے ہیں وہ ہمیں صرف اتنی دور لے جائے کہ ہم اس وقت کے اندراندر ہوا خوری کر کے گھر واپس پہنچ جائیں چنانچہ اس کی تعمیل کی گئی اور آپ تفریح کے طور پر چند میل پھر کر واپس تشریف لے آئے۔تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 335) یہ آخری سرمایہ تھا جو آپ نے وصال سے پہلے خرچ کر لیا۔حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا نے اپنے بچوں کو مخاطب کر کے فرمایا: 413