ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 365 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 365

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 44 محمد ہی نام اور محمد ہی کام عليك الصلوة عليك السلام حضرت آمنہ کو خواب میں بتایا گیا کہ اُن کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہو گا اس کا نام محمد (صلی فیلم) رکھنا۔نیز انہوں نے یہ بھی خواب دیکھا کہ ان کے اندر سے ایک چمکتا ہوا نور نکلا ہے اور دُور دراز ملکوں میں پھیل گیا ہے۔جب بیٹا پیدا ہوا تو اس کے دادا عبد المطلب کو بتایا کہ میں نے خواب میں بچے کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) دیکھا تھا۔عبد المطلب اس پیارے بچے کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر بیت اللہ میں لے گئے اور وہاں جا کر خدا کا شکر ادا کیا اور بچے کے نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا اعلان کیا۔جس کے معنے ہیں بہت قابل تعریف، بے حد تعریف والا، حمد کیا گیا، بہت تعریف کیا گیا، نہایت سراہا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو تعریف کے قابل بنانے کے لئے اس کے قلب کو مظہر بنایا۔بہت بچپن میں ایک دفعہ جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) بچوں کے ساتھ مل کر کھیل رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو زمین پر لٹا کر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا سینہ چاک کر دیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سینہ کے اندر سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دل نکالا اور اس میں سے کوئی چیز نکال کر باہر پھینک دی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ کمزوریوں کی آلائش تھی جو اب تم سے جُدا کر دی گئی ہے۔اس کے بعد جبرائیل نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دل کو مصفیٰ پانی سے دھویا اور سینہ میں واپس رکھ کر اُسے پھر جوڑ دیا۔صحیح مسلم میں بیان کردہ اس کشف سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ پاکیزہ، مطہر ، مقدس اور مقرب تھے۔نو عمری میں صادق اور امین مشہور ہونا۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی نگاہوں میں حسن اخلاق کی وجہ سے عزت پانا بھی ظاہر کرتا ہے کہ لوگ آپ کی یکم کی تعریف کرنے پر مجبور تھے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محمد لی لی کام کے لئے کائنات تخلیق فرمائی تھی اس کو خیر البشر اور خیر الانبیاء بنایا تھا اور اس کا نام کلمہ طیبہ میں اپنے نام کے ساتھ جوڑ ا تھا۔لا الہ الا للہ محمد رسول اللہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ سے محبت ہے تو محمد صلی ی ی ی یکم کی اطاعت کرو اللہ محمدصلی اللی نام کی اطاعت کرنے والوں سے محبت کرے گا۔اس تخلیق کائنات کی عظمت کا سبب یہ بتایا کہ اس کا اسوہ سب سے زیادہ حسین ہے اس لئے قابل تعریف وجہ 365