ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 352 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 352

ہم ساتھ چل کر تھک جاتے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر تھکاوٹ کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم گردن اکڑا کر نہ چلتے بلکہ نظریں نیچی رکھتے تھے۔(ترمذی (42) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ فضل بن عباس) رسول اللہ صلی ال نیم کے پیچھے سوار تھے تو خُثعم قبیلہ کی ایک عورت آئی۔فضل اسے دیکھنے لگ پڑے اور وہ فضل کو دیکھنے لگ گئی۔تو اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کا چہرہ دوسری طرف موڑ دیا۔بخاری کتاب الحج باب وجوب الحج وفضله ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں: اللہ تعالیٰ کی قسم! بیعت کرتے وقت آپ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کو مس نہیں کیا، آپ ان کو صرف اپنے کلام سے بیعت کرتے تھے۔(صحیح بخاری، کتاب التفسير سورة الممتحنة ، باب اذا جاءكم المؤمنات مهاجرات، 350/3، الحدیث: 4891) اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔رسول کریم صلی الم نے فرمایا کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ (صحیح بخاری) اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔اللہ تبارک تعالیٰ غفور اور رحیم ہے۔اچانک نظر پڑنا یا نیت کے ساتھ جان بوجھ کر دیکھنے میں فرق ہے۔اللہ کے خوف سے جھکی رہنے والی آنکھوں والے مطہر و مقدس وجود پر لاکھوں درودو درود و سلام۔کوئی اس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے (در ثمین) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے آقا و مطاع کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے متبعین کو غض بصر کے قرآنی حکم پر عمل کی تلقین فرمائی اور خود عمل کر کے دکھایا۔فرماتے ہیں: ”مومن کو نہیں چاہئے کہ دریدہ دہن بنے یا بے محابا اپنی آنکھ کو ہر طرف اٹھائے پھرے، بلک يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ (النور:31) پر عمل کر کے نظر کو نیچی رکھنا چاہئے اور بد نظری کے اسباب سے بچنا چاہئے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ 533) 352