ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 351
حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بد نظری کے حوالے سے ارشاد فرمایا: النَّظْرَ أُسَهُمْ مَسْئُومٌ مِنْ سِهَامِ إِبْلِيسَ مَنْ تَرَكَهَا مِنْ مَخَافَتِي أَبْدَلْتِهِ إِيمَانًا يَجِدُ حَلَاوَتَهُ فِي قَلْبِهِ (المنذری، عبد العظيم، الترغيب والترهيب، بیروت، دار الکتب العلميه، 1417ھ، جلد 3، صفحہ 153) جب کسی مسلمان کی کسی عورت کی خوبصورتی پر نگاہ پڑتی ہے اور وہ غض بصر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی عبادت کی توفیق دیتا ہے جس کی حلاوت وہ محسوس کرتا ہے۔نبی کریم صلی ال نیلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ تمہاری نگاہیں اچانک پڑنے والی نظر کی پیروی نہ کریں۔کیو نکہ اچانک پڑنے والی نظر معاف ہے۔لیکن اس کے بعد دیکھنا معاف نہیں۔حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے اچانک نظر پڑ جانے کے بارہ میں دریافت کیا۔حضور صلی اللہ کریم نے فرمایا ”اضرف بَصَرَک“ اپنی نگاہ ہٹا لو۔66 ( ابوداؤد کتاب النکاح باب في ما يؤمر به من غض البصر ) آنحضرت صلی ا لم نے راستہ کے حق کے بارے میں وضاحت فرمائی: راستوں پر مجلسیں لگانے سے بچو۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہ ہمیں رستوں میں مجلسیں لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر رستے کا حق ادا کرو۔انہوں نے عرض کی کہ اس کا کیا حق ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہر آنے جانے والے کے سلام کا جواب دو، غضِ بصر کرو، راستہ دریافت کرنے والے کی رہنمائی کرو، معروف باتوں کا حکم دو اور ناپسندیدہ باتوں سے رو کو۔(مسند احمد بن حنبل جلد 3 صفحہ 61 مطبوعہ بیروت) ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں بیدار رہی اور آگ اس آنکھ پر حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی خشیت کی وجہ سے آنسو بہاتی ہے۔آگ اس آنکھ پر بھی حرام ہے جو اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء کو دیکھنے کی بجائے جھک جاتی ہے اور اس آنکھ پر بھی حرام ہے جو اللہ عز و جل کی راہ میں پھوڑ دی گئی ہو۔( سنن دارمی، کتاب الجهاد، باب فی الذي يسهر فی سبیل اللہ حارساً ) حضوراکرم علی ایم کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تیز رفتار کوئی نہیں دیکھا ایسے لگتا تھا کہ زمین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لپٹتی جارہی ہے۔351