ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 353 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 353

”ایمانداروں کو جو مرد ہیں کہہ دے کہ آنکھوں کو نامحرم عورتوں کے دیکھنے سے بچائے رکھیں اور ایسی عورتوں کو کھلے طور سے نہ دیکھیں جو شہوت کا محل ہو سکتی ہیں۔“ (اب اس میں ایسی عورتیں بھی ہیں جو پردہ میں نہیں ہوتیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو عورت پردے میں نہیں ہے اس کو دیکھنے کی اجازت ہے بلکہ ان کو بھی دیکھنے سے بچیں )۔اور ایسے موقعوں پر خوابیدہ نگاہ کی عادت پکڑیں اور اپنے ستر کی جگہ کو جس طرح ممکن ہو بچاویں۔ایسا ہی کانوں کو نامحرموں سے بچاویں یعنی بیگانہ عورتوں کے گانے بجانے اور خوش الحانی کی آوازیں نہ سنے، ان کے حسن کے قصے نہ سنے۔یہ طریق پاک نظر اور پاک دل رہنے کے لئے عمدہ طریق ہے۔رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ 100 بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ 440) 66 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غض بصر اور پردہ کی تعلیم کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: خد اتعالیٰ نے خلق احصان یعنی عفت کے حاصل کرنے کے لئے صرف اعلیٰ تعلیم ہی نہیں فرمائی بلکہ انسان کو پاک دامن رہنے کے لئے پانچ علاج بھی بتلا دیئے ہیں۔یعنی یہ کہ اپنی آنکھوں کو نامحرم پر نظر ڈالنے سے بچانا، کانوں کو نامحرموں کی آواز سننے سے بچانا، نامحرموں کے قصے نہ سننا، اور ایسی تمام تقریبوں سے جن میں اس بد فعل کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اپنے تئیں بچانا۔اگر نکاح نہ ہو تو روزہ رکھنا وغیرہ۔اس جگہ ہم بڑے دعوی کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ اعلیٰ تعلیم ان سب تدبیروں کے ساتھ جو قرآن شریف نے بیان فرمائی ہیں صرف اسلام ہی سے خاص ہے اور اس جگہ ایک نکتہ یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ انسان کی وہ طبعی حالت جو شہوات کا منبع ہے جس سے انسان بغیر کسی کامل تغیر کے الگ نہیں ہو سکتا یہی ہے کہ اس کے جذباتِ شہوت محل اور موقع پا کر جوش مارنے سے رہ نہیں سکتے یا یوں کہو کہ سخت خطرہ میں پڑ جاتے ہیں۔اس لئے خدائے تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم نہیں دی کہ ہم نامحرم عورتوں کو بلا تکلف دیکھ تو لیا کریں اور ان کی تمام زمینتوں پر نظر ڈال لیں اور ان کے تمام انداز ناچنا وغیرہ مشاہدہ کرلیں لیکن پاک نظر سے دیکھیں اور نہ یہ تعلیم ہمیں دی ہے کہ ہم ان بیگانہ جوان عورتوں کا گانا بجانا سن لیں اور ان کے حسن کے قصے بھی سنا کریں لیکن پاک خیال سے سنیں بلکہ ہمیں تاکید ہے کہ ہم نامحرم عور توں کو اور ان کی زینت کی جگہ کو ہر گز نہ دیکھیں۔نہ پاک نظر سے اور نہ ناپاک نظر سے اور ان کی خوش الحانی کی آواز میں اور ان کے حسن کے قصے نہ سنیں۔نہ پاک خیال سے اور نہ ناپاک خیال سے۔بلکہ ہمیں چاہئے کہ ان کے سننے اور دیکھنے سے نفرت رکھیں جیسا کہ مردار سے تا ٹھو کر نہ کھاویں۔کیو نکہ ضرور ہے کہ بے قیدی کی نظروں سے کسی وقت ٹھو کریں پیش آویں۔سو چو نکہ خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہماری 353