ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 350
قسط 42 دل اور آنکھ کی پاکیزگی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ”ول پاک نہیں ہو سکتا جب تک آنکھ پاک نہ ہو۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 164 - 165) آنحضور صلی الم کی بعثت کے وقت کے معاشرہ کی عکاس عربی شاعری پڑھ سکیں تو اندازہ ہو کہ آنکھوں کو پاکیزگی کا درس دینا کتنا بڑا انقلاب تھا۔اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں کو یہ سکھانے کا ارشاد فرمایا کہ: ترجمہ: اپنی نگاہ نیچی رکھا کریں۔يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ (النور:31) غض بصر سے مراد اپنی نظر کو ہر اس چیز سے رو کنا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔( تفسير الطبری جلد 18 صفحہ 116) اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس میں نظر اُٹھانے اور نظر جھکانے کے آداب، اثرات، خطرات سب کچھ واضح کیا ہے۔نگاہ کا غلط استعمال بہت سارے فتنوں اور آفتوں کی بنیاد بنتا ہے۔مرد و عورت کے باہمی تعلقات کی ابتداء دونوں کی نظریں ملنے سے ہوتی ہے اور یہ ہوتا ہے کہ جب کسی پر نظر پڑتی ہے تو خواہ دوسرے کی نظر نیچی ہی ہو تب بھی اس پر اثر پڑ جاتا ہے۔بد نظر سے ہی دل میں تمام قسم کے بد خیالات و تصورات جاگتے ہیں۔انسان کے دل میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور طبیعت لذت یابی پر مائل ہو جاتی ہے۔جس کے بھیانک نتائج کسی کی نظر سے اوجھل نہیں ہیں۔نفس کے خالق سے بڑھ کر علم النفس کی باریکیاں کوئی نہیں جان سکتا۔اس نے آنکھوں میں لذت لینے کی صلاحیت رکھی اور پھر اسے جائز حدود میں رکھنے کا حکم دیا تا کہ اجر عظیم سے نوازے۔آنکھیں نیچی رکھو کہ کر وہ دروازہ بند کر دیا جہاں سے خرابیاں در آتی ہیں۔350