ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 338
اے ہمارے ربّ! تو ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول مبعوث کر جو ان پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور انہیں کتاب کی تعلیم دے اور (اس کی) حکمت بھی سکھائے اور ان کا تزکیہ کر دے۔یقیناً تو ہی کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تعلیم و تربیت دے کر تلاوت آیات اور کتاب کی تعلیم و حکمت سکھانے کے لئے آنحضور صلی اللہ نیلم کو مبعوث فرمایا۔انبیائے کرام کی بعثت حادثاتی یا اتفاقی طور پر نہیں ہوتی۔اللہ قادرو توانا ہزارہا سال پشت ہا پشت ان کے جوہر کی حفاظت کرتا ہے۔پھر اپنے خاص فضل و کرم سے اپنے نور سے ممسوح کر کے پاک فطرت ودیعت کر کے پیدائشی طور پر اخلاق فاضلہ سے مزین کرکے اس پاک نفس کو بھیجتا ہے جس کی سرشت میں صرف بھلائی اختیار کرنا اور برائی سے دور ہٹنا شامل ہوتا ہے۔یہ خصوصیات کوئی دنیاوی استاد نہیں سکھا سکتا۔رسول پاک صلی می کنم تو امی تھے حضرت جبرائیل جب غار حرا میں اللہ کا پیغام لے کر آئے اور آپ کی میریم کو پڑھنے کا ارشاد کیا تو آپ صلی علی کرم نے فرمایا: ما انا بقداریء میں تو پڑھنا نہیں جانتا اور یہ حقیقت تھی۔پھر آپ کیا یہ کلام کو جو کچھ سکھایا اللہ پاک نے خود سکھایا۔اللہ تبارک تعالی کی سر کار سے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے صرف آنحضرت صلی ایم کو ”النبی الامی “ کا امتیازی قابل فخر خطاب عطا ہوا۔یہ آپ کی تمیم سے خاص تھا۔خدائے رحمان نے خود قرآن پاک سکھایا وَكَذَلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا مَا كُنْتَ تَدْرِى مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَهُ نُورًا نَّهْدِئَ بِهِ مَنْ نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِى إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ) (الشعراء: 53) اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک زندگی بخش کلام وحی کیا۔تو جانتا نہ تھا کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے لیکن ہم ہی نے اسے نور بنایا جس کے ذریعہ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں اور یقیناً تو سیدھے راستہ کی طرف چلاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ صلی ایم کے نبی امی ہونے کی حکمت سمجھاتے ہیں: متقی کا معلم خدا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر امیت غالب ہوتی ہے ہمارے نبی کر یم ملی الم کو اس لئے امی بھیجا کہ باوجود یہ کہ آپ کی تعلیم نے نہ کسی مکتب میں تعلیم پائی اور نہ کسی کو استاد بنایا۔پھر آپ نے وہ معارف اور حقائق بیان کئے جنہوں نے دنیوی علوم کے ماہروں کو دنگ اور حیران کر دیا۔قرآن شریف 338