ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 337
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 41 آسمانی تعلیم و تربیت چوں حاجتے بود بادیب دگر مرا من تربیت پذیر ز رب میمنم مجھے کسی اور استاد کی ضرورت کیوں ہو۔میں تو اپنے خدا سے تربیت حاصل کئے ہوئے ہوں۔(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 658) اللہ تبارک تعالیٰ خود اپنے انبیا کا معلم ہو کر ان کو علوم آسمانی سے بہرہ ور فرماتا ہے جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا (البقره: 32) اور اس نے آدم کو تمام نام سکھائے۔اسی طرح حضرت لوط علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت موسی علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارہ میں فرمایا کہ آتَيْنَهُ حُكْما وعِلْمًا (الانبیاء: 75) اسے ہم نے حکمت و علم عطا کیا تھاد یگر انبیاء کے بارہ میں بھی یہی فرمایا گیا وَكُلَّا اتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا (الانبیاء: 80) اور ہر ایک کو ہم نے حکمت اور علم عطا کئے۔مة الله نبی کریم صلی ا لی ایم کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَعَلَّبَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (النساء: 114) اور تجھے وہ کچھ سکھایا جو تو نہیں جانتا تھا۔تلاوت آیات، قرآن کا علم و حکمت اور تزکیہ نفوس آنحضور ملی ایم کے ساتھ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی: رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُوْلًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) 337 (البقره: 130)