ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 253
ایک دفعہ حضرت صہیب رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔حضور کے سامنے کھجوریں اور روٹی پڑی تھی۔آپ نے صہیب کو بھی دعوت دی کہ کھانے میں شامل ہو جائیں۔صہیب روٹی کی بجائے کھجوریں زیادہ شوق سے کھانے لگے۔رسول کریم نے ان کی آنکھ میں سوزش دیکھ کر فرمایا کہ تمہاری ایک آنکھ دکھتی ہے۔اس میں اشارہ تھا کہ کھجور کھانے میں احتیاط چاہیے۔انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ میں صحت مند آنکھ والی طرف سے کھجوریں کھا رہا ہوں۔نبی کریم اُس مزاح سے بہت محظوظ ہوئے اور اس صحابی کی حاضر جوابی پر تبسم فرمانے لگے۔حضرت براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لو گوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور خوش اخلاق تھے۔( بخاری کتاب المناقب باب صفة النبى مسند احمد جلد 4 صفحہ 61 دار الکتاب العربی بیروت ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دیہاتی زاہر نامی دوست تھے جو اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدئے بھیجا کرتے تھے۔ایک روز وہ بازار میں اپنی کوئی چیز بیچ رہے تھے۔اتفاق سے حضور صلی الم ادھر سے گزرے ان کو دیکھا تو بطور خوش طبعی چپکے سے پیچھے سے جاکر ان کو اپنے جسم کے ساتھ لگا لیا اور ہنستے ہنستے آواز لگائی کہ اس غلام کو کون خریدتا ہے؟ زاہر نے کہا مجھے چھوڑ دو کون ہے؟ مڑ کر دیکھا تو حضور صلی الیم تھے۔حضرت زاہر نے کہا: یارسول اللہ ! مجھ جیسے غلام کو جو خریدے گا نقصان اٹھائے گا۔حضور صلی الظالم نے فرمایا: تم خدا کی نظر میں ناکارہ نہیں ہو۔(محسن انسانیت، اسوہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: ”انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے۔وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔دنیا کے لئے اس میں برکات ہوتے ہیں۔اپنے جیسا سمجھ لینا ظلم ہے۔اولیاء اور انبیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے“ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 213 حاشیہ، ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ 253