ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 252 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 252

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام زیادہ مسکراتا ہوا حسین چہرہ آپ کا ہو تا تھا۔وہ (مجمع الزوائد جلد 9 صفحہ 17) ایک دفعہ رسول اللہ صلی علی یکم اپنی صاحبزادی فاطمہ کے ہاں تشریف لائے تو حضرت علی کو گھر میں موجود نہ پایا تو آپ نے پوچھا تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے مابین کچھ تکرار ہو گئی۔وہ مجھے ناراض پا کر چلے گئے اور گھر میں دو پہر آرام بھی نہیں کیا۔رسول کریم صلی اللہ کریم نے ایک شخص کو بھجوایا کہ دیکھو کہاں گئے؟ اس نے آکر بتایا کہ وہ مسجد میں ہیں۔رسول اللہ علی ای کلام وہاں تشریف لے گئے تو حضرت علی زمین پر لیٹے تھے ان کی چادر جسم سے سر کی ہوئی تھی اور پہلو غبار آلود تھا۔رسول کریم ملایا ہم پہلے تو پیار سے حضرت علی سے مٹی پونچھنے لگے پھر فرمایا: اٹھو اے ابو تراب (مٹی کے باپ)! اور یوں حضرت علی کی ایک یہ کنیت بھی معروف ہوئی۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل بَابُ مِنْ فَضَابِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ) اسی طرح رسول الله صل العمل بعض دفعہ اپنے گھر کے خادم حضرت انس کو دو کانوں والا کہہ کر یاد فرماتے۔اب ظاہر ہے کہ ہر شخص کے دوکان ہی تو ہوتے ہیں۔مگر رسول اللہ کا پیار سے انس کو یوں پکارنا کہ اے دو کانوں والے! ذرا ادھر آنا۔کیسا مزاح پیدا کر دیتا ہو گا۔(شمائل الترمذی باب فی صفۃ مزاح رسول الله ) حضرت محمود بن ربیع نے کم سنی میں حضور کے محبت بھرے مزاح کی ایک بات عمر بھر یادر کھی۔وہ فرماتے تھے کہ میری عمر پانچ سال تھی حضور ہمارے ڈیرے پر تشریف لائے۔آپ نے ہمارے کنویں سے پانی پیا اور ڈول سے پانی منہ میں لے کر اس کی ایک پچکاری میرے اوپر پھینکی تھی۔(بخاری کتاب العلم باب 13) ایک اور صحابی حضرت سفینہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول کریم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، جب ہمارا کوئی ساتھی تھک جاتا تو وہ اپنا سامان تلوار ڈھال یا نیزہ مجھے پکڑا دیتا یہاں تک کہ میرے پاس بہت ساسامان اکٹھا ہو گیا۔نبی کریم نے یہ سب دیکھ کر فرمایا تم تو واقعی سفینہ (یعنی کشتی) ہو۔جس نے سب مسافروں کا سامان سنبھال رکھا ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 صفحہ 221، ابو داؤد کتاب الادب باب 18) 252