ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 219
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام حضرت انس ہی سے ایک اور روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لو گوں سے اچھے اخلاق کے مالک تھے۔ایک بار آپ نے مجھے کسی کام کے لئے بھیجا۔میں نے کہا میں نہیں جاؤں گا۔لیکن میرے دل میں تھا کہ کر لوں گا کام، ابھی کر کے آتا ہوں کیو نکہ حضور کا حکم ہے۔بہر حال کہتے ہیں کہ میں چل پڑا، بچہ تھا تو بازار میں بچوں کے پاس سے گزرا۔بچے کھیل رہے تھے میں کھڑا ہو گیا اور ان کو دیکھنے لگ گیا۔تھوڑی دیر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پیچھے سے میری گردن پکڑ لی، گردن پر ہاتھ رکھا۔میں نے مڑ کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے۔فرمايا: أنيس! (مذاق میں کہا) جس کام کی طرف میں نے تجھے بھیجا تھا وہاں گئے ؟ میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! ابھی جاتا ہوں۔انس کہتے ہیں کہ خدا کی قسم میں نے نو سال تک حضور کی خدمت کی ہے۔مجھے علم نہیں کہ آپ نے کبھی فرمایا ہو کہ تو نے یہ کام کیوں کیا ہے یا کوئی کام نہ کیا تو آپ نے فرمایا ہو کہ کیوں نہیں کیا۔م الله سة (مسلم کتاب الفضائل باب حسن خلقه علی امیرم ) ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ اسامہ بن زید دروازے سے ٹکرا گئے جس کی وجہ سے ان کی پیشانی پہ زخم آ گیا۔چنانچہ رسول اللہ صلی علیم نے مجھے فرمایا کہ اس کا زخم صاف کر کے اس کی تکلیف دور کرو۔چنانچہ میں نے اس کا زخم صاف کیا اور حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں پھر رسول اللہ صلی علی ولم اس کو بہلاتے ہوئے شفقت اور محبت کا اظہار فرماتے رہے اور فرمایا کہ اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے عمدہ عمدہ کپڑے پہناتا اور اسے زیور پہناتا یہاں تک کہ میں اس پر مال کثیر خرچ کرتا۔(مسند احمد بن حنبل باقی مسند الانصار حدیث سید عائشہ رضی اللہ عنها صفحہ 53) حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صل العالم مجھے پکڑ کر اپنے ایک زانو پر بٹھا لیتے اور دوسرے پر حسن کو۔یعنی جب بیٹھے ہوتے تو ران پر ایک طرف حضرت حسنؓ کو بٹھا لیتے اور دوسرے پر مجھے پھر ہم دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیتے اور فرماتے: "اللَّهُمَّ ارْحَمْهُمَا فَإِنِّي أَزْحَمُهُمَا‘ اے اللہ! ان دونوں پر رحم فرمانا۔میں ان دونوں سے شفقت رکھتا ہوں۔بخاری کتاب الادب باب وضع الصبي على الفخذ ) اسامہ غلام کا بیٹا اور حسن بن علی آپ کا نواسا مگر کوئی تخصیص نہیں کی۔حتی کہ دعا میں بھی دونوں کو برابر شامل کیا۔219