ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 218 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 218

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام قسط 31 خادموں اور ملازموں سے حسن سلوک مرے اللہ ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں موت دے اور مجھے قیامت کے روز زُمر ہ مساکین میں اٹھا۔“ شاہ کونین رحمة للعالمین محمد مصطفی ملا لیلی کیم کی یہ دعا سن کر حضرت عائشہ نے پوچھا کیوں یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم)؟ اس پر آنحضور صلی المی کریم نے فرمایا کہ: ”مساکین اغنیاء سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔اے عائشہ! کسی مسکین کو نہ دھتکارنا خواہ تجھے کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ دینا پڑے۔اے عائشہ !مساکین کو اپنا محبوب رکھنا اور انہیں اپنے قرب سے نوازنا۔خدا تعالیٰ کے قیامت کے دن تجھے اپنے قرب سے نوازے گا۔“ (ترمذی کتاب الزهد باب ما جاء ان فقراء المهاجرين يدخلون الجنة قبل اغنيائهم ) رسول اللہ صلی الی یوم جو مکارم اخلاق کی بلند ترین چوٹی پر فائز ہیں۔ہر ذی روح سے حسن سلوک کرنے کا عظیم ترین نمونہ ہیں۔محروم طبقوں کا خاص طور پر زیادہ احساس فرمایا۔ان میں سے خادموں، ملازموں اور نو کروں پر آپ کے الطاف و اکرام کے واقعات بتانے سے پہلے یہ واضح کردوں کہ ہم جس دور کی بات کر رہے ہیں غلاموں کی خریدو فروخت عام تھی ان زر خرید غلاموں کو کم ترین مخلوق سمجھا جاتا تھا۔آپ نے انہیں برابر کا درجہ دیا۔چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ غلامی میں مالک کے ظلم وستم کا شکار، پتھریلی زمین پر گھسٹ کر لہو لہان بلال ایک دن حضرت سیدنا بلال بن گئے۔ان گنت واقعات میں سے چند پیش ہیں پڑھئے اور غلامی کو سرے سے ختم کرنے والے پر درود و سلام بھیجئے۔حضرت انس روایت کرتے ہیں کہ میں بچہ تھا اور دس سال تک مجھے حضور کی خدمت کا موقعہ ملا اور میں اس طرح کام نہیں کیا کرتا تھا جس طرح حضور کی خواہش ہوتی تھی۔اکثر یہ ہوتا تھا۔لیکن آپ نے کبھی مجھے آج تک کام کے بارے میں کچھ نہیں کہا، اُف تک نہیں کہی۔یا یہ کبھی نہیں کہا کہ تم نے یہ کیوں کیا ہے یا تم نے یہ کیوں نہیں کیا یا اس طرح کیوں نہیں کیا۔کبھی آپ نے کچھ نہیں کہا۔( سنن ابی داود کتاب الادب باب في الحلم و اخلاق النبي ) 218