ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 220 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 220

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام ابو مسعود انصاری کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا۔میں نے اپنے پیچھے سے آنے والی ایک آواز سنی جو یہ تھی کہ ابن مسعود جان لو کہ اللہ تعالیٰ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو۔میں نے مڑ کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہ فرمانے والے رسول اللہ صلی کی کم تھے۔چنانچہ میں نے کہا یا رسول اللہ! میں اسے اللہ کی خاطر آزاد کرتا ہوں۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو تمہیں دوزخ کا عذاب پہنچتا۔(مسلم کتاب الایمان باب صحبة المماليك وكفارة مَنْ لَطَمَ عَبْدَه ) مارنے والا مالک تھا اور مار کھانے والا غلام تھا۔کسی قصور پر مار رہا ہو گا۔آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ اس کا کیا قصور تھا۔اس لئے کہ قصور کتنا بھی بڑا ہو اس طرح مارنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔اس غلام کو آزادی مل گئی اور غلاموں کا شرف قائم ہو ان کی عزت نفس کا خیال رکھنے کا سبق دیا۔غلاموں کو آزاد کرنے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑا ثواب ملنے کی نوید دی اور ایسے قوانین بنائے کہ رفتہ رفتہ غلام رکھنے کا رواج پر ختم ہو گیا۔رسول الله صل اللیل کلیم نے کم مراعات یافتہ طبقے خادموں اور ملازموں سے بے مثال حسن سلوک کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے۔وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا اور اس پر رحم کرتا ہے اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مُرسلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلود زندگی سے نجات دیں۔۔۔مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے ماموروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے۔اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ میری خدمت کرتے ہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔یہ ہے نمونہ اعلیٰ اخلاق اور فروتنی کا اور یہ بات بھی سچ ہے کہ زیادہ تر عزیزوں میں خدام ہوتے ہیں جو ہر وقت گرد و پیش رہتے ہیں اس لئے اگر کسی کے انکسار و فروتنی اور تحمل و برداشت کا نمونہ دیکھنا ہو تو ان سے معلوم ہو سکتا ہے بعض مرد یا عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ خدمتگار سے ذرا کوئی کام بگڑا۔مثلاً چائے میں نقص ہوا تو جھٹ گالیاں دینی شروع کر دیں یا تازیانہ لے کر مارنا شروع کر دیا۔ذرا شوربے میں نمک زیادہ ہو گیا بس بیچارے خدمتگاروں کی آفت آئی۔“ (ملفوظات جلد نمبر 4 صفحہ 437 ایڈیشن 1988ء) 220