ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 149 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 149

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا۔جب حضرت ابو بکر نے نماز پڑھانی شروع کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ آرام محسوس کیا اور نماز کے لئے نکلے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کا حکم دینے کے بعد جب نماز شروع ہو گئی تو آپ نے مرض میں کچھ کمی محسوس کی آپ اس طرح مسجد کی طرف نکلے کہ دو آدمی آپ کو سہارا دے کر لے جا رہے تھے۔کہتی ہیں کہ میری آنکھوں کے سامنے یہ نظارہ ہے کہ شدت درد کی وجہ سے اس وقت آپ کے قدم زمین سے گھسٹتے جاتے تھے۔آپ کو دیکھ کر حضرت ابو بکر نے ارادہ کیا کہ پیچھے ہٹ جائیں۔اس ارادے کو معلوم کر کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر کی طرف اشارہ فرما کر کہا اپنی جگہ پہ کھڑے رہو۔پھر آپ کو وہاں لایا گیا۔پھر آپ ابو بکر کے ساتھ بیٹھ گئے اور اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنی شروع کی اور آپ کی جو حرکت ہوتی تھی اس پر حضرت ابو بکر تکبیر کہتے تھے۔الله اكبر بولتے تھے اور باقی لوگ حضرت ابو بکر کی نماز کی اتباع میں آپ کے پیچھے نماز پڑھتے رہے“ حضرت علی اور حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ: (بخاری کتاب الاذان باب حد المريض ان يشهد الجماعة ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت اور آخری پیغام جبکہ آپ جان کنی کے عالم میں تھے اور سانس اکھڑ رہا تھا۔یہ تھا کہ الصَّلوةُ وَ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ" نماز اور غلام کے حقوق کا خیال رکھنا۔( سنن ابن ماجه کتاب الوصايا باب هل أوطی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ عبودیت کے وہی نظارے چشم فلک نے صدیوں کے انتظار کے بعد پھر عبودیت کے وہی نظارے دیکھے۔ایک بدر کامل طلوع ہوا جس نے سراج منیر کی روشنی منعکس کر کے دنیا کو نور محمدی سے منور کیا۔دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تشریف آوری کے وقت اٹھارہویں صدی کی ہلاکت آفرینیوں نے الحاد و دہریت اور فسق وفجور کا ایک تند و تیز سیلاب بہار کھا تھا اور بڑے بڑے متدین خاندان اس کی زد میں آچکے تھے بلکہ خود آپ کے خاندان میں بے دینی کی ایک رو چل نکلی تھی لیکن حضرت کے قلب صافی میں ابتداء ہی سے خدا تعالیٰ کی عبادت اور اس سے محبت کے جذبات موجزن تھے اور دنیا کی کوئی دلکشی 149