ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 150 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 150

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام اور رنگینی آپ کے اس والہانہ عشق میں حائل نہیں ہو سکی ( تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 51) آپ تو افسروں کے افسر اور مالك الملك احكم الحاكمين کے حضور حاضر ہو چکے تھے۔آپ کے والد صاحب نے اس مسیتر لڑکے کے بارے میں کہا یہ شخص زمینی نہیں آسمانی (ہے) یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 53) آپ کی نہایت چھوٹی عمر کی دعا ” نامرادے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے“ ظاہر کرتی ہے کہ ذوق عبادت آپ کی فطرت میں شامل تھا آپ فرماتے ہیں: المسجد مكاني والصالحون اخواني و ذكر الله مالی و خلق الله عیالی مسجد میرا مکان صالحین میرے بھائی یاد الہی میری دولت اور مخلوقِ خدا میرا عیال اور خاندان ہے۔(سیرت مسیح موعود حصہ سوم از یعقوب علی عرفانی صفحه 387) 1883ء میں الہام ہوا وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ - وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى ترجمہ: اور صبر اور صلوۃ کے ساتھ مدد چاہو اور ابراہیم کے مقام سے نماز کی جگہ پکڑو۔آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز (تذکره صفحه 67) لٹر کمپن سے ہی قرآن مجید کا مطالعہ اور نماز کی ادائیگی دن رات آپ کا معمول تھا والد صاحب کی اطاعت میں کچھ خاندانی مقدمات کی پیروی کرنی پڑی۔یہ فرض نبھاتے ہوئے بھی نماز کی ادئیگی کو مقدم رکھتے۔عین کچہری میں نماز کا وقت آجاتا تو اس کمال محویت اور ذوق و شوق سے مصروف نماز ہو جاتے کہ گویا آپ صرف نماز پڑھنے کے لئے آئے ہیں اور کوئی کام آپ کے مد نظر نہیں بسا اوقات ایسا ہوتا کہ آپ خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے عجز و نیاز کر رہے ہوتے اور مقدمہ میں طلبی ہو جاتی مگر آپ کا استغراق، تو کل الی اللہ اور حضورِ قلب کا یہ عالم تھا کہ جب تک مولائے حقیقی کے آستانہ پر جی بھر کے الحاح و زاری نہ کر لیتے اس کے دربار سے واپسی کا خیال تک نہ لاتے“ تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 77) ایک ایسے ہی مقدمے میں آپ نماز کی وجہ سے طلبی پر حاضر نہ ہو سکے مگر اللہ پاک کے کرم سے معجزانہ 150