ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 148
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ: قیام اللیل مت چھوڑنا اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں چھوڑتے تھے اور جب آپ بیمار ہو جاتے، جسم میں سستی محسوس کرتے تو بیٹھ کر تہجد کی نماز پڑھتے۔(سنن ابی داؤد کتاب التطوع باب قیام اللیل حدیث نمبر 1303) حضرت کعب بن مالک روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ دن کے وقت سفر سے واپس تشریف لاتے اور سب سے پہلے مسجد تشریف لے جاتے۔وہاں دو رکعت نفل ادا کرتے پھر کچھ دیر وہاں بیٹھتے۔(مسلم کتاب صلاة المسافرین و قصه ها باب استحباب ركعتين في المسجد لمن قدم من سفر اول قدومه حدیث نمبر 1659) ایک روایت میں آتا ہے: غزوہ اُحد کی شام جب لوہے کے خود کی کڑیاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنے رخسار میں ٹوٹ جانے کی وجہ سے آپ کا بہت سا خون بہہ چکا تھا۔کھلے پر لگنے کی وجہ سے خون بہہ چکا تھا۔آپ زخموں سے نڈھال تھے۔علاوہ ازیں 70 صحابہ کی شہادت کا زخم اس سے کہیں بڑھ کر اعصاب شکن تھا۔اس روز بھی آپ بلال کی اذان کی آواز پر نماز کے لئے اسی طرح تشریف لائے جس طرح عام دنوں میں تشریف لاتے تھے۔پھر آخری بیماری میں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید بخار میں مبتلا تھے اس وقت بھی اگر آپ کو فکر تھی تو صرف نماز کی تھی۔گھبراہٹ کے عالم میں بار بار پوچھتے کیا نماز کا وقت ہو گیا؟ بتایا گیا کہ لوگ آپ کے منتظر ہیں۔بخار ہلکا کرنے کی خاطر فرمایا میرے اوپر پانی کے مشکیزے ڈالو۔پانی ڈالو۔تعمیل ارشاد ہوئی۔حکم پورا کیا گیا۔پھر غشی طاری ہو گئی۔پھر ہوش آیا، پھر پوچھا کہ نماز ہو گئی۔جب پتہ چلا کہ صحابہ ابھی انتظار میں ہیں تو پھر فرمایا مجھ پر پانی ڈالو۔پھر پانی ڈالا گیا۔پھر اس طرح پانی ڈالنے سے جب بخار کچھ کم ہوا تو نماز پر جانے لگے۔مگر پھر کمزوی کی وجہ سے بیہوشی کی کیفیت طاری ہو گئی۔( بخاری کتاب المغازی باب مرض النبی علی و وفاته ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جب آپ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بوجہ سخت ضعف کے نماز پڑھنے پر قادر نہ تھے۔اس لئے آپ نے 148