ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 119
کی عید کا اگلا دن تھا اور آریوں کے لیے بھی یہ دن عید کا ہی دن تھا کیو نکہ اس دن ایک مسلمان نے ہندو مذہب قبول کرنا تھا۔لیکھرام کے پاس ایک شخص آیا اور کہا جناب میں مسلمان ہوں اب ہندو بنا چاہتا ہوں یہ سن کر لیکھرام بے حد خوش ہوا۔اسے اپنی جیت اور متح کا نشان سمجھا سب کو بتاتا کہ یہ ہمارا پہلا شکار ہے اسے ہندو بنانے کے لئے سات مارچ 1897ء کا دن مقرر ہوا۔بڑی دھوم دھام سے اس کا انتظام کیا جارہا تھا اور ہندؤوں کے لیے تو گویا یہ عید کا دن تھا۔6 مارچ کو ہفتہ کا دن تھا کہ لیکھرام نے قمیض اتاری ہوئی تھی اور اپنے کمرہ میں بیٹھا تھا۔پاس ہی وہ کمبل اوڑھے بیٹھا تھا۔کہ لیکھرام نے انگڑائی لی اور اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر اس شخص نے پورا خنجر لیکھرام کے پیٹ میں اتار دیا اور یہاں تک کہ اس کی انتڑیاں باہر آگئیں اور منہ سے ایسی آواز نکلی جیسے کہ بیل نکالتا ہے جسے سن کر اس کی بیوی اور ماں بھاگی ہوئی کمرہ میں آگئیں۔اب وہاں کیا رکھا تھا۔وہ شخص بھاگ چکا تھا۔یہ دیکھ کر وہ دروازہ تک دوڑی گئیں۔سنا جاتا ہے کہ وہ یہ کہتی تھیں کہ انہوں نے قاتل کو سیڑھیوں پر سے اترتے دیکھا ہے۔لیکن آگے پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں غائب ہو گیا۔زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا۔کیونکہ وہ گلی ایک طرف سے بالکل بند تھی اور اس طرف سے بھاگنے کا کوئی راستہ نہ تھا اور دوسری طرف جو کھلی تھی اس طرف کسی کی شادی تھی اور وہاں خوب کھانے وغیرہ پک رہے تھے اور لوگ بیٹھے تھے اور وہاں سے بھاگتے ہوئے کسی نے دیکھا نہیں تو اب بتاؤ وہ شخص گیا تو کہاں گیا؟ ہندؤوں کا محلہ۔بھاگنے کو راستہ نہیں۔کسی ہندو کے مکان میں چھپنے کی جگہ نہیں تو پھر ** آخر وہ مسلمان جا کہاں سکتا تھا۔ہندؤوں نے بڑا شور مچایا اور لاہور میں مسلمان اداروں کی تلاشیاں ہو ئیں۔یہاں تک کہ قادیان میں حضرت صاحب کے مکان تک کی تلاشی ہوئی۔انگریز سپر نٹنڈنٹ پولیس نے خود تلاشی لی۔حضرت صاحب نے اسے سب کاغذات دکھائے۔معاہدہ کا وہ کاغذ بھی دکھایا کہ جس میں دونوں فریقوں نے رضا مندی سے سچی پیشگوئی کو سچائی کا معیار ٹھہرایا تھا۔وہاں سے جانے کے بعد کپتان پولیس نے گورنمنٹ کو رپورٹ بھجوائی کہ ان الزامات میں کوئی حقیقت اور سچائی نہیں اور کوئی سازش نہیں ہوئی اور سارا پراپیگینڈا بالکل غلط ہے۔لیکھرام کو فوڑا میوہسپتال پہنچایا گیا۔شام کا وقت ہو چکا تھا ایک انگریز ڈاکٹر نے اس کا آپریشن کر کے ٹانکے لگائے۔چو نکہ اس کی حالت بہت نازک ہو چکی تھی اس لیے ڈاکٹر نے پولیس کو بیان لینے سے بھی روک دیا۔صبح ہوتے ہی پنڈت لیکھرام وفات پا گیا۔19 119