ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 118
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام 3۔اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان سے انکاری! خبر دار ہو جا۔تو اگر نور محمد دیکھنا چاہے تو آ ہم تجھے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا نور د کھاتے ہیں۔4۔معجزات کا یوں تو آج نام ونشان بھی نظر نہیں آتا۔مگر توا گر کوئی معجزہ دیکھنا چاہتا ہے تو محمد کے غلاموں اور خدمتگاروں کے پاس آکر دیکھ لے۔اس کی شوخی اور شرارت حد سے زیادہ ہو گئی، تو 20 فروری 1893ء کو حضرت اقدس نے اس کے متعلق ایک اشتہار شائع کیا۔حضرت اقدس نے تحریر فرمایا: اس شخص کے بارہ میں مجھے الہام ہوا ہے کہ یہ بے جان بچھڑا ہے اس کے اندر سے مکروہ آواز نکل رہی ہے اور اس کی گستاخیوں اور بد زبانیوں کی وجہ سے اسے سزا ملے گی اور اسے عذاب دیا جائے گا۔اگر چھ برس کے اندر اندر اس پر کوئی ایسا عذاب نازل نہ ہوا جو عام تکلیفوں جیسا ہی ہوا اور اس نشان کے اندر خدائی رعب اور ہیبت نہ ہوئی تو سمجھو کہ میں خدا کی طرف سے نہیں اور میں اس کے نتیجہ میں ہر قسم کی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہوں گا چاہے مجھے سولی پر ہی کیوں نہ چڑھا دیا جائے۔اس شریر کی بد زبانیاں اور بے ادبیاں ایسی ہیں کہ جنہیں پڑھ کر ہر (مومن کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے اور یہ بات اچھی طرح سمجھ لو کہ یہ پیشگوئی اتفاقی نہیں بلکہ خاص اسی مطلب کے لیے دُعا کی گئی تو خدا نے مجھے اس کا یہ جواب دیا ہے۔اس کے ڈیڑھ ماہ بعد 2 اپریل 1893ء کو آپ نے ایک اور اشتہار دیا جس میں آپ نے لکھا: رؤیا میں دیکھا کہ ایک بڑا طاقتور اور خوفناک شکل والا شخص ہے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویاوہ انسان نہیں بلکہ بڑا سخت فرشتہ ہے۔اُس نے پوچھا لیکھرام کہاں ہے تو پھر اس وقت حضور نے یہ سمجھا کہ یہ وہ شخص ہے جسے لیکھرام کی سزا کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔اس اشتہار کی پیشگوئی سے معلوم ہوا کہ لیکھرام قتل کیا جائے گا۔اس کے بعد حضور نے ایک اور پیشگوئی فرمائی کہ جس دن لیکھرام کی موت ہو گی وہ عید کے ساتھ والا دن ہو گا۔یہ تین پیشگوئیاں ہو گئیں۔اول یہ کہ یہ شخص چھری سے قتل ہو گا۔دوسری یہ کہ وہ دن عید کے ساتھ والا دن ہو گا اور تیسری یہ کہ چھ سال کے اندر مارا جائے گا۔اس سلسلہ میں یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ حضرت اقدس کے ایک الہام کے الفاظ ہیں: يُقْضَى أَمْرُهُ فِی سِتَّ“ یعنی چھ میں اس کا کام تمام کیا جائے گا۔اس الہام میں چھ کا ہندسہ اس واقعہ سے کیسا عجیب تعلق رکھتا ہے۔سو بالکل اسی طرح ہوا یعنی یہ شخص چھ سال کے اندراندر مارا گیا۔اس کے قتل کا دن چھ مارچ 1897ء تھا یہ چھٹے گھنٹے میں قتل ہوا۔یہ دن مسلمانوں 118