ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 117 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 117

کوئی نشان تو ما نگیں“۔اس فقرہ سے بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ شخص کس قدر بے باک شوخ اور گستاخ تھا۔حضرت اقدس نے جواب میں تحریر فرمایا: ”جناب پنڈت صاحب! آپ کا خط میں نے پڑھا۔آپ یقیناً سمجھیں کہ ہمیں نہ بحث سے انکار اور نہ نشان د کھانے سے۔مگر آپ سیدھی نیت سے طلب حق نہیں کرتے۔بے جا شرائط زیادہ کر دیتے ہیں۔آپ کی زبان بد زبانی سے رکتی نہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ اگر بحث نہیں کرنا چاہتے تو رب العرش خیر الماکرین سے میری نسبت کوئی آسمانی نشان مانگیں۔یہ کس قدر ہنسی ٹھٹھے کے کلمے ہیں۔نشان خدا کے پاس ہیں وہ قادر ہے جو آپ کو دکھلا دے“ اور اس کے بعد 20 فروری 1886ء تک آسمانی نشان دکھلانے کا وعدہ بھی کر لیا۔لیکن لیکھرام یہ لکھ کر قادیان سے چلا گیا کہ میں آپ کی پیشگوئیوں کو واہیات سمجھتا ہوں اور میرے حق میں جو چاہو شائع کرو۔میری طرف سے اجازت ہے میں ان باتوں سے ڈرنے والا نہیں۔حضرت اقدس نے ایک کتاب ”آئینہ کمالات اسلام“ لکھی۔اس میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں فارسی میں ایک نظم لکھی۔جس میں بڑے جلال سے اس شخص کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چند اشعار کہے: الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از تیغ بران محمد مولی که گم کردند مردم بجو در آل و اعوان محمد منکر از شان محمد الا ہم از نور نمایان محمد کرامت گرچه بے نام و نشان است ترجمہ: بیا بنگرز غلمان 1۔خبر دار اے احمق اور گمراہ دشمن! تو ڈر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تیز تلوار - سے۔2۔مولی کی راہوں سے مخلوق خدا بھٹک چکی ہے اور اب تو اگر چاہے کہ تجھے سیدھا راستہ نصیب ہو تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم کی آل اولاد اور اس کے مدد گاروں کے پاس پہنچ۔117