راکھا — Page 97
” میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا۔اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ با نگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور بائیں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔(ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ہرگز پسند نہیں فرماتے تھے کہ خصوصاً وہ احباب جن کا آپ سے قربت کا تعلق ہے کسی بھی طور سے اپنے اہلِ خانہ سے سختی کا برتاؤ کریں۔آپ آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ پر خود بھی پورے طور پر عمل کرنے والے تھے اور اسی کی تلقین وہ اپنے ماننے والوں کو بھی کرتے رہتے تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی فطرتاً ذرا سخت طبیعت کے تھے اور اسی وجہ سے اپنی اہلیہ سے بھی سختی سے پیش آتے۔چونکہ ان کا حضور سے خاص قربت کا تعلق تھا اس لئے ان کے بارے میں خاص طور پر آپ کو مندرجہ ذیل الفاظ میں الہام ہوا : یہ طریق اچھا نہیں۔اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈ رعبدالکریم کو۔خُذُو الرِّفْقَ الرّفْقَ فَإِنَّ الرِّفْقَ رَأْسُ الْخَيْرَاتِ نرمی کرو۔نرمی کرو کہ تمام 66 نیکیوں کا سرنرمی ہے۔‘ ( تذکرہ صفحہ ۴۰۹ ایڈیشن ۱۹۵۶) اس الہام کے بارہ میں آپ فرماتے ہیں: ا خویم مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنی بیوی سے کسی قدرختی کا برتاؤ کیا تھا۔اس پر حکم ہوا کہ اسقدر سخت گوئی نہیں چاہئے۔“ ( اربعین نمبر ۳ روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۴۲۹) 97