راکھا

by Other Authors

Page 98 of 183

راکھا — Page 98

اپنے ایک صحابی حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب کو خط لکھتے ہوئے آپ فرماتے ہیں : " خونخوار انسان نہیں بننا چاہئے۔بیویوں پر رحم کرنا چاہئے اور ان کو دین سکھانا چاہئے۔در حقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے۔میں جب کبھی اتفاقاً ایک ذرہ درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نے صد ہا کوس سے میرے حوالہ کیا۔شاید معصیت ہوگی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لئے دعا کرو کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو مجھے معاف فرما دیں اور میں بہت ڈرتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔سوئیں امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی ایسا ہی کریں گے۔ہمارے سید و مولا رسول اللہ ہے صلى الله کس قدر اپنی بیویوں سے علم کرتے تھے۔زیادہ کیا لکھوں۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود جلد دوم صفحه ۲۳۰) خلاصہ کلام یہ کہ اصل میں مذکورہ آیت میں عورتوں کو زدوکوب کرنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ہمارے سامنے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین ، آئمہ کرام، بزرگانِ اُمت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، آپ کے بزرگ صحابہ اور خلفاء کے گھریلو زندگی کے نمونے موجود ہیں جنہوں نے کبھی بھی اپنی بیویوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔پس اگر بفرض محال کسی کی بیوی باوجود ہر طرح سے سمجھانے کے نشوز کے طرز عمل سے باز نہیں آتی تو اُس سے علیحدہ ہو جائے لیکن کسی بھی احمدی مسلمان کو ہرگز ہرگز زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھائے کہ یہ شرفاء کا طریق نہیں۔98