راکھا

by Other Authors

Page 96 of 183

راکھا — Page 96

پر اسلام کے خلاف کرتی ہیں اور کوئی ان سے نہیں پوچھتا۔بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے خلیج الرسن تو نہیں کیا مگر اس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی ہے کہ اُن میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا اور کنیز کوں اور بہائم سے بھی بدتر اُن سے سلوک ہوتا ہے، مارتے ہیں تو ایسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتہ ہی نہیں کہ آگے کوئی جاندار ہستی ہے یا نہیں۔غرض بہت ہی بری طرح سلوک کرتے ہیں۔یہانتک کہ پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ ایک اتار دی دوسری پہن لی۔یہ بڑی خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نامرد ہے جوعورت کے مقابلہ میں کھڑا ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۴۴ ) و بعض لوگوں کا حال سنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات اُن سے لیتے ہیں۔گالیاں دیتے ہیں۔حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریق سے برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۴۱۸) " فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں۔ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو عورت سے جنگ کریں۔ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے۔در حقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے۔اس کا شکر یہ یہ ہے کہ ہم عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں۔“ ( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۱) 96