راکھا

by Other Authors

Page 95 of 183

راکھا — Page 95

عَلِيًّا كَبِيرًا پس اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو پھر تمہیں اُن پر زیادتی کا کوئی حق نہیں ہے۔یقیناً اللہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔یادرکھو اگر تم اپنے آپ کو عورت سے زیادہ مضبوط اور طاقتور سمجھ رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سے بہت بڑا ، مضبوط اور طاقتور ہے۔عورت کی تو پھر تمہارے سامنے کچھ حیثیت ہے بلکہ برابری کی ہی حیثیت ہے۔لیکن تمہاری خدا تعالیٰ کے سامنے تو کوئی حیثیت نہیں ہے۔اس لئے اللہ کا خوف کرو اور اپنے آپ کو ان حرکتوں سے باز کرو۔(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۰ نومبر ۲۰۰۶، بحوالہ الفضل انٹر نیشنل اتاے دسمبر ۲۰۰۶) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اگر نصیحت کے باوجود نا موافقت کے آثار ظاہر ہو جائیں تو تم بعد از نصیحت خواب گاہوں میں اُن سے جدا ہو جاؤ یعنی خلوت میں اُن سے کنارہ کرو۔اُن سے بات کرنا بھی چھوڑ دو ( یعنی جیسی جیسی صورت پیش آوے ) پس اگر وہ تمہاری تابعدار ہو جائیں تو تم بھی طلاق وغیرہ کا نام نہ لو اور تکبر نہ کرو کہ کبریائی خدا کے لئے مسلم ہے۔یعنی دل میں یہ نہ کہو کہ اس کی مجھے کیا حاجت ہے میں دوسری بیوی کر سکتا ہوں۔بلکہ تواضع سے پیش آؤ کہ تواضع خدا کو پیاری ہے۔“ ( آریہ دھرم صفحہ ۴۵) ” اسی طرح عورتوں اور بچوں کے ساتھ تعلقات اور معاشرت میں لوگوں نے غلطیاں کھائی ہیں اور جادہ مستقیم سے بہک گئے ہیں۔قرآن شریف میں لکھا ہے عاشروهن بالمعروف مگر اب اس کے خلاف عمل ہو رہا ہے۔دو قسم کے لوگ اس کے متعلق بھی پائے جاتے ہیں۔ایک گروہ تو ایسا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو بالکل خلیج الرسن کر دیا ہے۔دین کا کوئی اثر ہی اُن پر نہیں ہوتا۔اور وہ کھلے طور 95