راکھا

by Other Authors

Page 94 of 183

راکھا — Page 94

ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَالَّتِى تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ = فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْتَغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلا ، إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا۔(النساء آیت ۳۵) اور وہ ط عورتیں جن سے تمیں باغیانہ رویے کا خوف ہو اُن کو پہلے تو نصیحت کرو۔پھر اُن کو بستروں میں الگ چھوڑ دو۔پھر اگر ضرورت ہو تو انہیں بدنی سزا دو۔یعنی پہلی بات یہ ہے کہ سمجھاؤ۔اگر نہ سمجھے اور انتہا ہوگئی ہے اور اردگر د بدنامی بہت زیادہ ہو رہی ہے تو پھر سختی کی اجازت ہے۔لیکن اس بات کو بہانہ بنا کر ذرا ذراسی بات پر بیوی پر ظلم کرتے ہوئے اس طرح مارنے کی اجازت نہیں کہ اس حد تک مارو کہ زخمی بھی کر دو۔یہ انتہائی ظالمانہ حرکت ہے۔آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ اگر کبھی مارنے کی ضرورت پیش آ جائے تو مار اِس حد تک ہو کہ جسم پر نشان نظر نہ آئے۔یہ بہانہ کہ تم میرے سامنے اُونچی آواز سے بولی تھی ، میرے لئے روٹی اس طرح کیوں پکائی تھی ، میرے ماں باپ کے سامنے فلاں بات کیوں کی، کیوں اس طرح بولی۔عجیب چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔ان باتوں پر تو مارنے کی اجازت نہیں ہے۔پس اللہ کے حکموں کو اپنی خواہشوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کریں اور خدا کا خوف کریں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہاری بیوی نے ایک انتہائی قدم جو اٹھایا اور اس پر تمہیں اُس کو سزا دینے کی ضرورت پڑی تو یاد رکھو کہ اب اپنے دل میں کینے نہ پالو۔جب وہ تمہاری پوری فرمانبردار ہو جائے ، اطاعت کر لے تو پھر اُس پر زیادتی نہ کرو۔فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْتَغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا إِنَّ اللَّهَ كَانَ 94