راکھا — Page 81
اور بھی بے شمار ایسے مواقع آتے ہیں کہ عورت کو خطرات اور مشکل صورت حال میں مرد کی پناہ ، حفاظت اور مدد کی ضرورت پڑتی ہے۔یہاں بھی مرد کی حیثیت فاعلی ہوتی ہے یعنی حفاظت یا پناہ مہیا کرنے والا۔اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عورت کو فطرتی طور پر مرد کی چاہت اور حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ کے اس سائے میں دلی تسکین محسوس کرتی ہے۔مشاہدہ گواہ ہے کہ عورتیں قوانین اور احکامات کی زیادہ پابند ہوتی ہیں۔جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اُس کے مطابق پورے طور پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔مثلاً ٹریفک کے قوانین کی عورتیں زیادہ پابندی کرتی ہیں۔کلاسوں اور دیگر پروگراموں میں حاضری اور متعلقہ احکامات کی پابندی جس رنگ میں عورتیں کرتی ہیں مرد نہیں کرتے۔گھروں میں نماز روزہ وغیرہ احکامات کی پابندی جس طرح لڑکیاں کرتی ہیں لڑکے نہیں کرتے۔نماز کیلئے آنا ہو یا روزے کیلئے سحری کے وقت اُٹھنا ہولڑ کیاں ہمیشہ لڑکوں سے پہلے موجود ہوتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں فطرتی طور پر اطاعت کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مردکو اگر عورتوں پر نگران مقرر کیا ہے تو عورتوں میں خاص طور پر اطاعت کا مادہ رکھ دیا ہے۔عورت میں فطری طور پر قوت متاثرہ زیادہ ہوتی ہے۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مرد کو قوام کے طور پر ذمہ داریاں ادا کرنے والا بنایا تو لا زم تھا کہ عورت میں مفعولی قوت یعنی اثر قبول کرنے کا مادہ زیادہ رکھا جاتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارے میں فرماتے ہیں: ” عورت میں اثر قبول کرنے کا مادہ بہت ہوتا ہے ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۰۷) اس پہلو سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مرد فاعلی حیثیت سے اثر ڈالتا ہے اور عورت اثر قبول کرتی ہے۔81