راکھا — Page 80
پھر بعض عورتوں کی فطرتی کجیاں اور ناز و نخرے اپنی جگہ رنگ دکھاتے ہیں لیکن مردوں کو حکم ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ۔سوال یہ ہے کہ یہ حکم آخر مرد کو ہی کیوں دیا گیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس لئے کہ وہ گھر کا ہے ، نگران ہے ، سر براہ ہے۔اگر ہم غور کریں تو عورت سے مرد کے ہر قسم کے تعلقات مثلاً قوام ہونے کی وجہ سے اُس کا مخصوص صلاحتیوں کا حامل ہونا، گھر کے اخراجات کو پورا کرنے کی ذمہ داری، انتظامی امور میں آخری فیصلہ کا اختیار ، عورت کا مثل کھیتی اور مرد کا مثل زمیندار کے ہونا اور میاں بیوی کے مخصوص تعلقات وغیرہ میں مرد کی حیثیت فاعلی ہوتی ہے۔ایک زمیندار بھی اپنی کھیتی میں ہل چلاتا ہے، بیج ڈالتا ہے اور پھر آبپاشی کرتا ہے۔اس کے بعد وہ ایک وقت تک انتظار کرتا ہے کہ بیج سے پودا بن کر زمین سے باہر نکلے۔اس کے بعد وہ اُس پودے کی حفاظت میں لگ جاتا ہے تا وقتیکہ وہ مضبوطی سے اپنے ڈنٹھل پر قائم ہو جائے۔پھر اُس کے گرد باڑ لگا تا ہے ، زمین میں کھاد ڈالتا ہے، گوڈی کرتا ہے، پانی دیتا ہے۔غرضیکہ پورے کے پروان چڑھنے تک اُس کی ضروریات کی فراہمی کی خاطر ایک زمیندار سخت محنت کرتا ہے۔یہ درست ہے کہ جس زمین میں بیچ مختلف مراحل سے گزر کر ایک پودے کی شکل میں باہر نکلتا ہے اس کی تاثیرات بھی پودے میں موجود ہوتی ہیں لیکن کاشت کاری کی ساری کاروائیوں میں زمیندار کی حیثیت بہر حال فاعلی ہوتی ہے۔حفاظتی نقطہ نظر سے بھی ایک مرد کی حیثیت فاعلی ہوتی ہے۔مثال کے طور پر میاں بیوی باہر سیر کو جارہے ہوں اور سامنے سے اچانک ایک خونخوار کتا بھونکتا ہوا اُن کی طرف لیکے یا کوئی اور موذی جانوراچانک سامنے سے نمودار ہو تو بالعموم بیوی ہی چیخ مار کر اور ڈر کر اپنے خاوند سے چھٹے گی اور اُس کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرے گی ، مرد ڈر کر بیوی کے پیچھے نہیں چھپے گا۔زندگی میں 80