راکھا — Page 82
اللہ تعالیٰ کے انبیاء بھی فیض رساں وجود ہوتے ہیں۔جیسے سورج کی حیثیت فاعلی ہے اسی طرح یہ بھی لوگوں کو ہدایت کا نور مہیا کرتے ہیں۔انبیاء سے قوت افاضہ کا ظہور ہوتا ہے اور جو لوگ اُن سے فیض پاتے ہیں اُن کی قوت استفاضہ حرکت کرتی ہے۔یعنی انبیاء فیض پہنچاتے ہیں اور لوگ اُن سے فیضیاب ہوتے ہیں۔اس پہلو سے انبیاء کی حیثیت بھی فاعلی ہوتی ہے۔سورۃ الیل کی آیت وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الأنفی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت خلیفہ امسیح الثانی فرماتے ہیں: اسی طرح کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں رجولیت کا مادہ ہوتا ہے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں نسوانیت کا مادہ ہوتا ہے۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دوسروں کو فیوض پہنچانے والے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو استفاضہ کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں۔جو لوگ افاضہ کی قوت اپنے اندر رکھتے ہیں وہ ذکر ہوتے ہیں اور جو استفاضہ کی قوت اپنی اندر رکھتے ہیں وہ انٹی ہوتے ہیں یعنی نر میں افاضہ کی قوت ہوتی ہے اور وہ دوسرے کو بچہ دیتا ہے اور مادہ میں استفاضہ کی قوت ہوتی ہے اور وہ بچہ کو اُس سے لیتی اور اس کی پرورش کرتی ہے۔یہی دو قو تیں ہیں جن کے ملنے سے دنیا میں اہم نتائج پیدا ہوتے ہیں۔۔۔۔بہر حال جس طرح نر اور مادہ کے باہمی اتصال سے نسل ترقی کرتی ہے اسی طرح قو میں اُسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ایک راہنما ایسا موجود ہو جو قوت افاضہ اپنے اندر رکھتا ہو اور قوم کے افراد ایسے ہوں جو قوتِ استفاضہ اپنے اندر رکھتے ہوں۔اللہ تعالیٰ یہی مثال کفار کے سامنے پیش کرتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ محمد رسول اللہ ے اور اُن کے صحابہ کا باہمی جوڑ دنیا میں ایک زبر دست نتیجہ پیدا کریگا کیونکہ محمد 82