راکھا

by Other Authors

Page 70 of 183

راکھا — Page 70

بعض مرد اس مسئلہ کو نہیں سمجھتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اَلرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِسَاءِ کے ماتحت عورتوں پر حاکم ہیں حالانکہ اُن کو درجہ نگرانی کا ملا ہے۔خلیفہ نگران ہوتا ہے اسی طرح حاکم وقت نگران ہوتا ہے مگر کیا کوئی حکم یا قانون اجازت دیتا ہے کہ وہ جو چاہیں معاملہ کریں۔نگران تو اس بات کا ہوتا ہے کہ جو حق اس کو ملا ہے اسے وہ شریعت کے احکام کے مطابق استعمال کرے۔نہ یہ کہ جو چاہے کرے۔نگران کا مفہوم یہ ہے کہ اس کو شریعت کے ماتحت چلائے مگر ہمارے ہاں اس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ جو چاہا کرلیا۔اس وجہ سے بعض عورتوں کو حقوق دینے کو تیار نہیں۔وہ ان کو گائے بکری سمجھتے ہیں اور عورتوں پر جبر یہ حکومت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ایسی حکومت تو خدا بھی نہیں کرتا۔اس کے برخلاف دوسری حد بھی خطرناک ہے جو عورتوں کی طرف سے ہے۔قَوَّامُون کا لفظ بھی آخر کسی حکمت کے ماتحت ہے۔یہ قانون خدا کا بنایا ہوا ہے جو خود نہ مرد ہے نہ عورت۔اس پر طرفداری کا الزام نہیں آسکتا۔۔۔۔وہ خالق ہے۔جو طاقتیں اس نے مرد کو دی ہیں ان کا اس کو علم ہے اور انہی کے ماتحت اُس نے اختیارات دیئے ہیں۔قوامون کے بہر حال کوئی معنے ہیں جو عورت کی آزادی اور حریت ضمیر کو باطل نہیں کرتے۔اس کے لئے عورت کے افعال، اس کے ارادے، اس کا دین و مذہب قربان نہیں ہو سکتے مگر قوامون بھی قربان نہیں ہوسکتا۔“ بلا شبہ مر د کو گھر کے انتظامی امور میں آخری فیصلے کا اختیار ہے لیکن وہ بھی پابند ہے اور قانون کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا۔اس کی مثال دیتے ہوئے حضور مزید فرماتے ہیں: شریعت کا حکم ہے کہ عورت خاوند کی اجازت کے بغیر باہر نہ جائے۔مگر اس کے باوجود مرد عورت کو اس کے والدین سے ملنے سے نہیں روک سکتا۔اگر کوئی مرد ایسا 70