راکھا

by Other Authors

Page 71 of 183

راکھا — Page 71

کرے تو یہ کافی وجہ خلع کی ہوسکتی ہے۔والدین سے ملنا عورت کا حق ہے مگر وقت کی تعین اور اجازت مرد کا حق ہے۔مثلاً خاوند یہ کہ سکتا ہے کہ شام کو نہیں صبح کو مل لینا یا اس کے والدین کو اپنے گھر بلا لے یا اس کو والدین کے گھر بھیج دے۔‘‘ (خطباتِ محمود جلد سوئم صفحه ۲۰۵-۲۰۶) مردوں کے قوام ہونے کا مطلب حضور ایک اور موقع پر یوں بیان فرماتے ہیں: ہاں آپ نے اس بات کا بھی اعلان فرمایا کہ وَ لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً یعنی حقوق کے لحاظ سے تو مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں لیکن انتظامی لحاظ سے مردوں کو عورتوں پر ایک حق فوقیت حاصل ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک مجسٹریٹ انسان ہونے کے لحاظ سے تو عام انسانوں جیسے حقوق رکھتا ہے اور جس طرح ایک ادنیٰ سے ادنی انسان کو بھی ظلم اور تعدی کی اجازت نہیں اُسی طرح مجسٹریٹ کو بھی نہیں۔مگر پھر بھی وہ بحیثیت مجسٹریٹ اپنے ماتحتوں پر فوقیت رکھتا ہے اور اُسے قانون کے مطابق دوسروں کو سزا دینے کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔اسی طرح تمدنی اور مذہبی معاملات میں مرد و عورت دونوں کے حقوق برابر ہیں لیکن مردوں کو اللہ تعالیٰ نے قوام ہونے کی وجہ سے فضیلت عطا فرمائی ہے۔۔چونکہ میاں بیوی نے مل کر رہنا ہوتا ہے اور نظام اُس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک ایک کو فوقیت نہ دی جائے اس لئے یہ فوقیت مردکو دی گئی ہے اور اس کی ایک وجہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ مردا پنارو پیر عورتوں پر خرچ کرتے ہیں اس لئے انتظامی امور میں انہیں عورتوں پر فوقیت حاصل ہے ( النساء آیت (۳۵) ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحه ۵۱۳) 71