راکھا — Page 69
لحاظ سے۔ایک حاکم اگر چہ با اختیار ہوتا ہے لیکن قانون کا پابند وہ بھی ہوتا ہے اور کوئی ایسا حکم نہیں دے سکتا اور نہ ہی کوئی ایسا فیصلہ کر سکتا ہے جس کی قانون اُسے اجازت نہیں دیتا۔ایک مرد کو اللہ تعالیٰ نے اُس کی مخصوص صلاحتیوں کی وجہ سے گھر کا نگران مقرر فرمایا ہے تو اس کے کچھ قانونی اور اخلاقی تقاضے بھی ہیں جن کی پابندی اُس کیلئے لازم قرار دی گئی ہے۔اصل میں اس آیت کے ذریعے ایک مرد کو حاکم نہیں بلکہ ایک ذمہ دار نگران قرار دیا گیا ہے۔قرآن وحدیث میں بیان فرمودہ تاکیدی احکامات کے مطالعہ سے ایک خاوند کا جو نقشہ ابھرتا ہے وہ ایک شفیق ، مہربان اور محسن ذمہ دار محافظ اور نگران کا ہے جسے برداشت اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے اپنی بیویوں سے ہر حال میں نیک سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل فرماتے ہیں: یہ آیت بیا ہے ہوئے مر دوں کو اچھی لگتی ہے۔اس کا معنیٰ یہ ہے کہ مردوں کو چاہئے اپنی بیویوں کے محافظ اور اُن کی درستی اور ٹھیک رکھنے کا موجب بنیں۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۲۰) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس طرح مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں۔خدا کے نزدیک دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔جس طرح مرد خدا کا بندہ ہے اس طرح عورت خدا کی بندی ہے۔جیسے مرد خدا کا غلام ہے ویسے ہی عورت خدا کی لونڈی ہے۔جیسے مرد آزاد اور حر ہے ویسے ہی عورت آزاد ہے۔دونوں کو حقوق حاصل ہیں۔69 69