راکھا — Page 55
مگر حدیث زیر نظر کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ بیوی کے انتخاب میں دوسری تمام باتوں کو بالکل ہی نظر انداز کر دینا چاہئے بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ نیکی اور اخلاق کے پہلو کو مقدم رکھنا چاہئے۔ورنہ بعض دوسرے موقعوں پر آنحضور ﷺ نے خود دوسری باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے کیونکہ وہ بھی ایک حد تک انسانی فطرت کے تقاضے ہیں۔مثلاً پردہ کے احکام کے باوجود آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ شادی سے پہلے اپنی ہونے والی بیوی کو دیکھ لیا کرو تا کہ ایسا نہ ہو کہ بعد میں شکل وصورت کی وجہ سے تمہارے دل میں انقباض پیدا ہو اور ایک دوسرے موقعہ پر جب ایک عورت اپنی شادی کے متعلق آپ سے مشورہ لینے کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے فرمایا میں تمہیں فلاں شخص سے شادی کا مشورہ نہیں دیتا کیونکہ وہ مفلس اور تنگ دست ہے اور تمہارے اخراجات برداشت نہیں کر سکے گا اور نہ میں فلاں شخص کے متعلق مشورہ دے سکتا ہوں کیونکہ اس کے ہاتھ کا ڈنڈا ہر وقت ہی اٹھا رہتا ہے۔ہاں فلاں شخص کے ساتھ شادی کر لو وہ تمہارے مناسب حال ہے اور ایک تیسرے موقعہ پر آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ قبیلہ قریش کی عورتیں خاوند کی وفادار اور اولاد پر شفقت کے حق میں اچھی ہوتی ہیں اور ایک چوتھے موقعہ پر آپ نے فرمایا کہ حتی الوسع زیادہ اولاد پیدا کرنے والی عورتوں کے ساتھ شادی کرو تا کہ میں قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کر سکوں۔الغرض آپ نے اپنے اپنے موقعہ پر اور اپنی اپنی حدود کے اندر بعض دوسری باتوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔لیکن جس بات پر آپ نے خاص طور پر زور دیا ہے وہ یہ ہے کہ ترجیح بہر حال دین اور اخلاق کے پہلو کو ہونی چاہئے ورنہ تم اپنے 55