راکھا — Page 54
اور گھر یلو خوشی کی حقیقی بنیا د عورت کے دین اور اس کے اخلاق پر قائم ہوتی ہے۔اور بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جو ٹھوس اوصاف کو چھوڑ کر وقتی کھلونوں یا طمع سازی کی چیزوں کے پیچھے بھاگتا ہے۔پھر ایک نیک اور خوش اخلاق بیوی کا جو گہرا اثر اولاد پر پڑتا ہے وہ تو ایک ایسی دائمی نعمت ہے جس کی طرف سے کوئی دانا شخص جسے اپنی ذاتی راحت کے علاوہ نسلی ترقی کا بھی احساس ہو آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ظاہر ہے کہ بچپن میں اولاد کی اصل تربیت ماں کے سپر د ہوتی ہے کیونکہ ایک تو بچپن میں بچہ کو طبعا ماں کی طرف زیادہ رغبت ہوتی ہے اور وہ اسی سے زیادہ بے تکلف ہوتا ہے اور اس کے پاس اپنا زیادہ وقت گزارتا ہے اور دوسرے باپ اپنے دیگر فرائض کی وجہ سے اولاد کی طرف زیادہ توجہ بھی نہیں دے سکتا۔پس اولاد کی ابتدائی تربیت کی بڑی ذمہ داری بہر حال ماں پر پڑتی ہے۔لہذا اگر ماں نیک اور با اخلاق ہو تو وہ اپنے بچوں کے اخلاق کو شروع سے ہی اچھی بنیاد پر قائم کر دیتی ہے۔لیکن اس کے مقابل پر ایک ایسی عورت جو دین اور اخلاق کے زیور سے عاری ہے وہ کبھی بھی بچوں میں نیک اخلاق اور نیک عادات پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔بلکہ حق یہ ہے کہ ایسی عورت بسا اوقات دین کی اہمیت اور نیک اخلاق کی ضرورت کو مجھتی ہی نہیں۔پس نہ صرف خانگی خوشی کے لحاظ سے بلکہ آئندہ نسل کی حفاظت اور ترقی کے لحاظ سے بھی نیک اور با اخلاق بیوی ایک ایسی عظیم الشان نعمت ہے کہ دنیا کی کوئی اور نعمت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اسی لئے ہمارے آقا ہے دوسری جگہ فرماتے ہیں: خير متاع الدنيا المراة الصالحة یعنی نیک بیوی دنیا کی بہترین نعمت ہے۔54