راکھا — Page 56
ہاتھوں کو خاک آلود کرنے کے خود ذمہ دار ہو گے۔یہ وہ زریں تعلیم ہے جس پر عمل کر کے مسلمانوں کے گھر برکت و راحت کا گہوارہ بن سکتے ہیں۔کاش وہ اسے وو سمجھیں!۔‘ ( چالیس جواہر پارے صفحہ ۶ ۵ تا۵۹) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ دوسری قوم کولڑ کی دینا پسند نہیں کرتے بلکہ حتی الوسع لینا بھی پسند نہیں کرتے۔یہ سراسر تکبر اور نخوت کا طریقہ ہے جو احکامِ شریعت کے بالکل بر خلاف ہے۔بنی آدم سب خدا تعالیٰ کے بندے ہیں۔رشتہ ناطہ میں یہ دیکھنا چاہئے کہ جس سے نکاح کیا جاتا ہے وہ نیک بخت اور نیک وضع آدمی ہے اور کسی ایسی آفت میں مبتلا تو نہیں جو موجب فتنہ ہو۔اور یادرکھنا چاہئے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں۔صرف تقویٰ اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمُ یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ تر پرہیز گار ہے۔(ملفوظات جلده اصفحہ ۴۶) حضرت خلیفہ اسی اول سورۃ النساء کی آیت نمبر ۲ جو يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا سے شروع ہوتی ہے کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ تعلق جو میاں بیوی میں پیدا ہوتا ہے بظاہر وہ ایک آن کی بات ہوتی ہے۔ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے اپنی لڑکی دی اور دوسرا کہتا ہے کہ میں نے لی۔بظاہر یہ ایک سیکنڈ کی بات ہے مگر اس ایک بات سے ساری عمر کیلئے تعلقات کو وابستہ کیا جاتا ہے اور عظیم الشان ذمہ داریوں اور جواب دہیوں کا جو امیاں بیوی کی گردن پر رکھا جاتا ہے۔اس لئے اس سورۃ کو یا يُّهَا النَّاسُ سے شروع کیا ہے۔کوئی اس 56