قربانی کا سفر — Page 11
”ہمارے بادی اکمل کے صحابہ نے اپنے خدا اور رسول کے لئے کیا کیا جاشاریاں کیں ، جلا وطن ہوئے۔ظلم اُٹھائے ، طرح طرح کے مصائب برداشت کیے ، جانیں دیں لیکن صدق و وفا کے ساتھ قدم مارتے ہی گئے۔پس وہ کیا بات تھی کہ جس نے انہیں ایسا جاں نثار بنا دیا۔وہ سچی الہی محبت کا جوش تھا۔جس کی شعاع اُن کے دل میں پڑ چکی تھی، اس لیے خواہ کسی نبی کے ساتھ مقابلہ کر لیا جائے ، آپ کی تعلیم ، تزکیہ نفس ، اپنے پیروؤں کو دنیا سے متنفر کر دینا ، شجاعت کے ا ساتھ صداقت کے لیے خون بہا دینا ، اس کی نظیر کہیں نہ مل سکے گی۔یہ مقام الله آنحضرت ﷺ کے صحابہ کا ہے اور اُن میں جو باہمی الفت و محبت تھی۔اس کا نقشه دو فقروں میں بیان فرمایا ہے۔وَ اَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمُ لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الَا رُضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْ بِهِم (الانفال:64) یعنی جو تالیف اُن میں ہے وہ ہرگز پیدا نہ ہوتی ، خواہ سونے کا پہاڑ بھی دیا جاتا۔اب ایک اور جماعت مسیح موعودؓ کی ہے جس نے اپنے اندر صحابہ نے اپنا مال ، اپنا وطن راہ حق میں دے دیا اور سب کچھ چھوڑ دیا۔حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا معاملہ اکثر سُنا ہو گا۔ایک دفعہ جب راہ خدا میں مال دینے کا حکم ہوا تو گھر کا کل اثاثہ لے آئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ گھر میں کیا چھور آئے۔تو فرمایا کہ خدا اور رسول گھر چھوڑ آیا ہوں۔رئیس مکہ ہو کمبل پوش، غرباء کا لباس پہنے ، یہ سمجھ لو کہ وہ لوگ تو خدا کی راہ میں شہید ہو گئے۔ان کے لیے تو یہی لکھا ہے کہ سیفوں ( تلواروں کے نیچے بہشت ہے )۔( ملفوظات جلد اول ص 27) آئیے اب اس قربانی کے سفر کو مزید آگے لے کر چلتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ امام مہدی کے دور میں کیا قربانیاں پیش کی گئیں۔خود امام مہدی جو مجسم خدمت اسلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے اور جنہوں نے بارگاہ رب العزت میں یہ 11