قربانی کا سفر

by Other Authors

Page 10 of 81

قربانی کا سفر — Page 10

سیر ) کھجوریں حاصل کیں اس میں سے ایک صاع تو گھر والوں کے لئے رکھ لیا اور دوسرا آنحضور ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہو گئے اور عرض کیا کہ تقرب الی اللہ کے لئے اسے صدقہ کرتا ہوں۔اس مجمع میں منافقین بھی تھے انہوں نے اس بات پر حضرت ابو عقیل کا مذاق اُڑایا کہ ایک صاع کھجور دے کر قرب الہی حاصل کرنا چاہتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (مندرجہ بالا) نازل کی اور منافقین کو نہ صرف منہ توڑ جواب ملا بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب کی خبر دی کتنے پیارے انداز میں خدا تعالیٰ نے اس غریب کی قربانی کو سراہتے ہوئے اس پر ہنسی کرنے والوں کو عذاب کی منذر خبر سنائی۔قربانی کی داستانِ صحابہ رہتی دنیا تک حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی مسابقت کے واقعہ سے بھی رہے گی۔غزوہ تبوک کے موقع پر ایک دفعہ آنحضور ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ وہ صدقہ کریں۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ حسنِ اتفاق سے اس وقت میرے پاس کافی مال تھا۔انہوں نے اپنے دل میں کہا اگر میں ابو بکر سے کسی دن آگے بڑھ سکتا ہوں تو یہ آج کا دن ہے۔چنانچہ میں اپنا نصف مال لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور نے پوچھا گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو۔میں نے کہا نصف مال لیکن ابوبکر اپنا سب کچھ لے کر آگئے۔آنحضرت اللہ نے ان سے دریافت کیا اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ آئے ہو انہوں نے کہا میں نے ان کے لئے اللہ اور اس کے رسول کو باقی چھوڑا ہے۔ہیں۔(جامع ترمذی کتاب المناقب ابی ابی بکر و عمر حدیث نمبر 3608) حضرت مسیح موعود علیہ السلام صحابہ کی ان قربانیوں کے بارے میں فرماتے 10