تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 56
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۵۶ سورة الحاقة لإظْهَارِ التَّفَضُلَاتِ وَتَكْبِيْلِ الْجَزَاء جزاء سزا کی تکمیل ہو اور یہ عرش اللہ تعالیٰ کی صفات میں وَالدِّينِ۔وَهُوَ دَاخِل فِي صِفَاتِ الله تعالی داخل ہے کیونکہ اللہ تعالی ازل سے صاحب عرش ہے اور فَإِنَّهُ كَانَ ذَا الْعَرْشِ مِنْ قَدِيمٍ وَلَمْ يَكُن اس کے ساتھ ازل میں کوئی اور چیز نہ تھی۔پس ان باتوں معه شَيئ فَكُنْ مِنَ الْمُتَدَترين پر غور وفکر کرنے والوں میں سے بنو۔وَحَقِيقَةُ الْعَرْشِ وَاسْتِوَاءِ اللهِ عَلَيْهِ سری اور عرش کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کا اس پر مستوی ہونا سِ عَظِيمٌ مِنْ أَسْرَارِ الله تَعَالَى وَحِكْمَةُ الہی اسرار میں سے ایک بہت بڑا ستر ہے اور ایک بلیغ حکمت بَالِغَةٌ وَمَعْنَى رُوحَانِي وَسُمّی عَرُنا اور روحانی معنی پر مشتمل ہے اور اس کا نام عرش اس لئے لِتَفْهِيْمِ عُقُولِ هَذَا الْعَالَمِ وَلِتَفْرِيبِ رکھا گیا ہے تا اس جہاں کے اہل عقل کو اس کا مفہوم سمجھایا الْأَمْرِ إلى اِسْتِعْدَادَاتِهِمْ وَهُوَ وَاسِطَةٌ في جائے اور اس بات کا سمجھنا ان کی استعدادوں کے قریب وُصُوْلِ الْفَيْضِ الْإِلهِي وَالتَّجَلِي الرَّحْمَانِي کر دیا جائے اور وہ عرش الہی فیض اور اللہ تعالیٰ کی رحمانی من حَضْرَةِ الْحَق إِلَى الْمَلائِكَةِ وَمِن تجمل کو ملائکہ تک پہنچانے میں واسطہ ہے اور اسی طرح الْمَلَائِكَةِ إِلَى الرُّسُلِ۔وَلَا يَقْدَحُ في ملائکہ سے رسولوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔خدا تعالیٰ کی وَحْدَتِهِ تَعَالَى تَكَثُرُ قَوَابِلِ الْفَيْضِ بَلِ توحید پر یہ بات حرف نہیں لاتی کہ اس کے فیض کو قبول التَّكَثُرُ ههنا يُوجِبُ البَرکات لبنی آدم کرنے والے اور آگے پہنچانے والے وجود بکثرت ہوں وَيَعِيْتُهُمْ عَلَى الْقُوَّةِ الرُّوحَانِيَّة بلکہ اس مقام میں وسائط کی کثرت بنی آدم کے لئے وَيَنْصُرُهُمْ فِي الْمُجَاهَدَاتِ وَالرِّيَاضَات برکات کا موجب ہے اور روحانی قوت کے حصول میں ان کو الْمَوْجِبَةِ لظهورِ الْمُنَاسَبَاتِ الَّتى مدددیتی ہے اور انہیں ان مجاہدوں اور ریاضتوں میں مدد دیتی بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَصِلُونَ إِلَيْهِ مِنَ ہے جو ان مناسبتوں کے ظہور کا موجب بنتی ہے جو بنی آدم النَّفُوسِ كَنَفْسِ الْعَرْشِ وَالْعُقُولِ اور نفوس عالیہ مثلاً نفس عرش اور عقول مجردہ میں موجود ہیں الْمُجَرَّدَةِ إِلَى أَنْ يَصِلُونَ إِلَى الْمَبْدَأَ الْأَوَّلِ جن تک بنی آدم نے پہنچنا ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا یہاں وَعِلَّةِ الْعِلْلِ۔ثُمَّ إِذَا أَعَانَ السَّالِك تک کہ بنی آدم مبدء اول اور علت علل (ذات باری ) الْجَنَّبَاتُ الْإِلَهِيَّةُ وَالنَّسِيْمُ الرَّحْمَانِيَّةُ تک پائی جائیں۔پھر جب الہی کشش اور اس کی رحمانیت فَيَقْطَعُ كَثِيرًا مِنْ مُقْبِهِ وَيُنْجِيْهِ مِنْ بُعْدِ کی ٹھنڈی ہوا سالک کی مدد کریں تو اللہ تعالیٰ اس کے